1: میرا سوال یہ ہے کہ عیسائی جو مرغی کو جھٹکا دے کر ذبح کرتے ہیں ، کیا یہ مکروہ ہے یا حلال ؟ ان ایام میں امریکہ میں جانور سے سارا خون بہانا لازمی ہوتا ہے ، اگر چہ وہ جھٹکے کے ذریعے کاٹ کر کیوں نہ ہو۔
(۲): بعض ممالک میں بجلی کا کرنٹ جانور کو دیتے ہیں، جس سے اسے دل کا دورہ پڑ جاتا ہے، پھر اسے ذبح کر دیتے ہیں ۔ یہ حلال ہے یا مکروہ ہے۔ برائے مہربانی قرآنی آیات کے حوالہ جات سے جواب دیدیں ۔
جھٹکے اور کرنٹ کے ذریعہ جانور کو مارنانا پسندیدہ اور مکروہ ہے ،اور اگر اس دوران بغیر ذبح کیے جانور مر جائے، تو وہ مردار ہے۔ اور کا کھانا جائز نہیں، البتہ کرنٹ دینے کے بعد اگر جانور میں جان ہو ،اور کوئی مسلمان یا کتابی اللہ کا نام لے کر اس کی رگیں کاٹ دے تو وہ شرعا بھی حلال کہلائے گا۔
كما في الدر المختار: (وشرط كون الذابح مسلما حلالا خارج الحرم إن كان صيدا) (إلى قوله) (أو كتابيا ذميا أو حربيا) (6/ 296)۔
وفيه ايضا: (الاختيار) (ذبح بين الحلق واللبة) بالفتح: المنحر من الصدر (وعروقه الحلقوم) كله وسطه أو أعلاه أو أسفله: وهو مجرى النفس على الصحيح (والمريء) هو مجرى الطعام والشراب (والودجان) مجرى الدم (6/ 294)۔
وفيه ايضا : (ذبح شاة) مريضة (فتحركت۔ أو خرج الدم) (حلت وإلا لا إن لم تدر حياته) عند الذبح، وإن علم حياته (حلت) مطلقا (وإن لم تتحرك ولم يخرج الدم) اھ(6/ 308)۔
و في حاشية ابن عابدين: (قوله أو خرج الدم) أي كما يخرج من الحي. قال في البزازية: و في شرح الطحاوي: خروج الدم لا يدل على الحياة إلا إذا كان يخرج كما يخرج من الحي عند الإمام، وهو ظاهر الرواية (6/ 308) -
قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اگر اس کی کھال میں کیڑا نکل آئے، توایسی قربانی کاحکم
یونیکوڈ احکام ذبح 0