کیا کسی بکرے کو مسنون طریقہ کے علاوہ کاٹا جا سکتا ہے، اور اگر نہیں تو کیوں نہیں؟
بکر ایادیگر حلال جانوروں کو ذبح کرنے کا جو طریقہ شریعت نے بیان کیا ہے، ایک مسلمان کو اس کے مطابق جانور ذبح کرنا چاہیئے ، اور یہ شریعت کا حکم ہے، اس پر یہ سوال کہ سنت کے خلاف کیوں ذبح نہیں کیا جا سکتا ،مسلمان کی شان کے خلاف ہے ، تاہم اگر کسی نے جانور کو حلق کے بجائے خلافِ سنت گدی کی جانب سے ذبح کیا، تو وہ ذبیحہ حلال تو ہو گا ، مگر دانستہ سنت چھوڑنے اور جانور کو بے جا تکلیف پہنچانے کا وبال اس کے سر ہو گا۔ اور شرعاً یہ مکر وہ بھی ہے ۔
ففي صحيح مسلم: عن شداد بن أوس، قال: ثنتان حفظتهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «إن الله كتب الإحسان على كل شيء، فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة، وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح، وليحد أحدكم شفرته، فليرح ذبيحته» (3/ 1548)۔۔
في الدر المختار: وكره بعده كالجر برجلها إلى المذبح وذبحها من قفاها) (6/ 296)۔
قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اگر اس کی کھال میں کیڑا نکل آئے، توایسی قربانی کاحکم
یونیکوڈ احکام ذبح 0