یہاں سوئزر لینڈ میں ترکی والے مقامی قانون کے تحت جانوروں کو ذبح کرتے ہیں،یعنی اللہ تعالیٰ کے نام لےکر، ذبح کرنے سے پہلے لازماً ان کو بجلی کا جھٹکا دینا پڑتا ہے، آپ فرمائیں کہ یہ طریقۂ ذبح اسلام میں جائز ہے کہ نہیں؟
بجلی کا جھٹکا دینا بلاوجہ جانور کو تکلیف پہنچانے کی بناء پر اگرچہ درست نہیں، مگر اس کے باوجود بھی اگر اس میں جان رہتی ہو اور اسے شرعی طریقہ سے ذبح کیا جائے تو اس کا کھانا بلاشبہ جائز ہے , اور اگر وہ جھٹکے سے ہی مرجائے تو ایسا جانور مردار ہے، اس کا گوشت کھانا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، جس کے کھانے سے احتراز لازم ہے۔
کمافی الفتاوی الھندیة:المتردية والمنخنقة والموقوذة والشاة المريضة والنطيحة ومشقوقة البطن إذا ذبحت ينظر إن كان فيها حياة مستقرة حلت بالذبح بالإجماع، وإن لم تكن الحياة فيها مستقرة تحل بالذبح سواء عاش أو لا يعيش عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو الصحيح وعليه الفتوى، كذا في محيط السرخسي. (الیٰ قوله) أما إذا علمت حياتها يقينا وقت الذبح أكلت بكل حال، كذا في السراج الوهاج اھ(5/286)۔
وفیه ایضاً: والحاصل أن كل ما فيه زيادة ألم لا يحتاج إليه في الذكاة مكروه، كذا في الكافي اھ(5/288)۔
قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اگر اس کی کھال میں کیڑا نکل آئے، توایسی قربانی کاحکم
یونیکوڈ احکام ذبح 0