السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کے پاس ایک گائے ہے جو کہ دو سال مکمل کر چکی ہے، لیکن ابھی تک دانت والی علامت ظاہر نہیں ہوئی، اس جانور کی قربانی جائز ہوگی یا نہیں؟ صرف دو سال کا ہونا ہے ،یا دانت والی علامت ضروری ہے؟
۲:دوسرا مسئلہ ایک شخص کے پاس ایک بکرا ہے جو کہ ایک سال کا ہے ،لیکن دیکھنے میں ایک سال سے کم کا معلوم ہوتا ہے ،آیا اس بکرے کی قربانی جائز ہوگی؟ بقول اس شخص کے جو کہہ رہا ہے کہ یہ بکرا ایک سال کا ہے۔
۳: ایک گھر میں بہت سارے افراد ہیں ، باپ ، ماں، بیٹا، بہن، بھائی ۔ یہ سب لوگ ایک گھر میں ہیں، اور گھر کا خرچہ باپ او بیٹے کے ہاتھ میں ہے ، لیکن اب انہوں نے قربانی کرنی ہے، آیا باپ بیٹے کے علاوہ ماں کی طرف سے یا اور جو اس گھر میں بالغ حضرات ہیں، ان کی طرف سے قربانی جائز ہے؟ باپ کو چھوڑ کر یا پہلے باپ کی ضروری ہے؟
:مذکور گائے کی عمر اگر واقعۃً دو سال ہو چکی ہو تو اس کی قربانی بلاشبہ جائز اور دوست ہے۔
۲:بکرے کی عمر اگر ایک سال پوری ہو چکی ہو، جس کی خبر بکرے کا مالک دے رہا ہو تو ایسے بکرے کی قربانی کرنا بھی جائز ہے۔
۳:جوائنٹ فیملی سسٹم میں والد اور سر پرست کے علاوہ جتنے افراد صاحبِ نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے مالک) ہوں ،ان سب پر علیحدہ علیحدہ قربانی واجب ہے ، ورنہ نہیں۔
كما في فتاوى قاضيخان: فلا يجوز من الإبل والبقر والمعز إلا الثني * والثني من الإبل ما أتى عليه خمس سنين وطعن في السنة السادسة يقال له سديس وبازل عام * والثني من البقر ما أتى عليه سنتان وطعن في الثالثة * والثني من الغنم والمعز ما تمت له سنة وطعن في الثانية اھ (3/ 207)۔
و في الفتاوى البزازية على هامش الهندية: يجوز من الإبل (إلى قوله) ومن البقر وهو الداخل في الثالث (إلى قوله) ومن الغنم ما تمت عليه سنة ( الى قوله) وجاز منه الثني فصاعدا ولا يجوز ما دون الثني من كل شيئ إلا الجذع من الغنم إذا كان عظيما ( الى قوله) واذا كان صغير الجسم لا يجوز. إلا إذا تم عليه عام اھ (۶/ ۲۸۹)-
قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اگر اس کی کھال میں کیڑا نکل آئے، توایسی قربانی کاحکم
یونیکوڈ احکام ذبح 0