السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں آپ سے ایک اہم مسئلہ کے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہاں یورپ میں ایک کمپنی ہے، جو مرغی کی ٹانگیں اور سینے بیچتی ہے ،اور اس کے اوپر حلال کی مہر لگی ہوتی ہے، جب میں فون کر کے ان سے معلوم کرنا چاہتا ہوں ،تو جواب یہ آتا ہے کہ ان کو مشین کے ذریعہ ذبح کیا جاتا ہے، اور ایک مسلمان اس مشین پر مقرر ہے جو مشین چلاتے وقت بسم اللہ پڑھتا رہتا ہے، تو آیا شرعاً ایسا ذبیحہ حلال ہے یا حرام وضاحت فرمائیں ۔ جزاكم الله خيرا
مرغیوں کا ذبیحہ اگر اس طرح کیا جاتا ہو کہ ایک مشینی چین پٹی کے ذریعے انہیں قابو کیا جاتا ہو، پھر ہر مرغی ذبح کرنے والے شخص کے سامنے ترتیب وار آتی ہو ،اور وہ اسے بسم الله الله اکبر" کہہ کر ذبح کرتا ہو ،اور ذبح کرنے والا مسلمان بھی ہو تو ایسا ذبیحہ بلاشبہ حلال ہے، ورنہ اس کے کھانے سے احتراز لازم ہے۔ اس لئے کہ عموماً مشین کے ذریعہ ذبح کیے جانے والے ہر جانور پر "بسم الله " نہیں پڑھی جاتی۔ بلکہ صرف پہلے جانور پر ’’بسم الله‘‘ پڑھی جاتی ہے اور بعد والے جانوروں پر مشین ویسے ہی چلتی ہے اور مشین جو ذابح ہے وہ خود " بسم الله" نہیں پڑھ سکتی ۔ اس لئے اس صورت میں پہلی مرغی حلال ہوگی، باقی نہیں۔ اسی طرح بعض اوقات کسی شخص کو مشین کے پاس کھڑا کر دیا جاتا ہے ،جو "بسم الله " پڑھتا رھتا ہے یا کیسٹ لگادی جاتی ہے، اور مشین خود بخود چل رہی ہوتی ہے، ان دونوں صورتوں میں بھی ذبیحہ حلال نہ ہو گا ،لہذا مذکورہ مشینی ذبیحہ کی تحقیق کر کے اس کے موافق عمل کرنا چاہئیے۔
كما قال الله تعالى: {وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ } [الأنعام: 121]
و في البحر الرائق: و في الحاوي جمع العصافير فذبح واحدة وسمى وذبح أخرى على أثره بتلك التسمية لا تؤكل ولو أمر السكين عليهم بتسمية واحدة جاز (8/ 193)
و في بدائع الصنائع: وأما شرائط الركن فمنها أن تكون التسمية من الذابح حتى لو سمى غيره والذابح ساكت وهو ذاكر غير ناس لا يحل لأن المراد من قوله تبارك وتعالى { ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه } أي لم يذكر اسم الله عليه من الذابح فكانت مشروطة فيه (5/ 48)
و في الفتاوى الهندية: ومن شرائط التسمية أن تكون التسمية من الذابح حتى لو سمى غيره والذابح ساكت وهو ذاكر غير ناس لا يحل (5/ 286) -
قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اگر اس کی کھال میں کیڑا نکل آئے، توایسی قربانی کاحکم
یونیکوڈ احکام ذبح 0