مولانا صاحب! میں جاننا چاہتا ہوں کہ عقیقہ کے لیے قربانی کرنا ہی ضروری ہے، یا یہ بھی جائز ہے کہ میں قصائی کی دکان سے گوشت خرید کر لوگوں میں تقسیم کر دوں؟ یا اگر میں قصائی کے پاس جا کر کوئی بکرا ذبح کروا لوں اور پھر جتنا گوشت بنے اُس کی قیمت ادا کر دوں تو کیا یہ صورتِ حال صحیح ہوگی؟ برائے مہربانی عقیقہ کے متعلق رہنمائی فرمائیں!
عقیقہ کا عمل جانور ذبح کرنے سے ہی ادا ہوگا ،محض گوشت خرید کر کچا یا پکاکر تقسیم کرنے یا کھلانے سے عقیقے کی سنت ادا نہیں ہوگی۔
کما بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: والعقيقة: الذبيحة التي تذبح عن المولود يوم أسبوعه، (ج:5، ص: 69)-
و فیہ أیضا: (ومنها) أن لا يقوم غيرها مقامها حتى لو تصدق بعين الشاة أو قيمتها في الوقت لا يجزيه عن الأضحية؛ لأن الوجوب تعلق بالإراقة والأصل أن الوجوب إذا تعلق بفعل معين أنه لا يقوم غيره مقامه كما في الصلاة والصوم وغيرهما،(5/ 66) -
قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اگر اس کی کھال میں کیڑا نکل آئے، توایسی قربانی کاحکم
یونیکوڈ احکام ذبح 0