میرے خاندان کے کچھ رشتہ دار آسٹریلیا گئے،وہ مجھ سے مشینی ذبیحہ کے بارے میں سوال کرتے ہیں،انہوں نےوہاں کے اسلامک سینٹر سے بھی سوال کیا تو حلال کا فتویٰ ان کو بتایا گیا،مگر وہاں کے ہی سینٹر سے اس کے مخالف فتوی بھی جاری ہوا ہے،اب وہ لوگ کسی اچھے اور مستند مفتی صاحب سے اس کے بارے میں فتویٰ چاہتے ہیں۔
(1)کیا زندہ جانوروں کا مشینی ذبیحہ حلال ہے؟
(2)اگر یہ حلال ہے تو کچھ لوگ اس کو حرام کیوں کہتے ہیں؟
اگر کوئی شخص بسم اللہ پڑھ کی مشین کا بٹن دبادے اور مشین کا بلیڈ تمام جانوروں کی گردن پر بیک وقت(یعنی کسی پر پہلے کسی پر بعد میں نہ)چلےتو اس صورت میں وہ تمام جانور شرعاً بھی حلال شمار ہوں گے اور ان کا کھانا بلاشبہ جائز اور حلال ہے۔
مگر عام طور پر ایسا نہیں ہوتا،بلکہ بعض جانوروں کی گردنوں پر بلیڈ پہلے چل جاتا ہے،جبکہ دوسرے بعض کی گردنوں پر بعد میں،اب جن کی گردنوں پر پہلے چلا ہے،وہ بلاشبہ حلال اور ذبحِ اسلامی ہیں اور بعد والے حرام اور میتہ کے حکم میں ہیں، پھر ان جانوروں میں چونکہ تفریق ممکن نہیں اور معاملہ حلال وحرام کا ہے،اسلئے حرام شے کے کھانے سے بچنے کیلئے احتیاطاً سب پر ہی حرام کا اطلاق ہوتا ہے، لہذا مشینی ذبیحہ کے کھانے سے احتراز لازم ہے۔
کمافی الدرالمختار:(و) ذكاة (الاختيار) (ذبح بين الحلق واللبة) بالفتح: المنحر من الصدر (وعروقه الحلقوم) كله وسطه أو أعلاه أو أسفله: وهو مجرى النفس على الصحيح (والمريء) هو مجرى الطعام والشراب (والودجان)(الیٰ قوله)(وشرط كون الذابح مسلما حلالا خارج الحرم إن كان صيدا) (أو كتابيا ذميا أو حربيا) (الیٰ قوله)(وتارك تسميةعمداً) (فإن)(تركهاناسيا)(حل)اھ (6/293/299)۔
وفی البحر الرائق: وفی الحاوی جمع العصافیر فذبح واحدة وسمی وذبح اخری علیٰ اثرہ بتلك التسمیةلاتؤکل ولو امرالسکین علیھم بتسمیة واحدة جاز اھ(8/169)۔
وفی الھندیة:والعروق التي تقطع في الذكاة أربعة: الحلقوم وهو مجرى النفس، والمريء وهو مجرى الطعام، والودجان وهما عرقان في جانبي الرقبة يجري فيها الدم، فإن قطع كل الأربعة حلت الذبيحة، وإن قطع أكثرها فكذلك عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -، وقالا: لابد من قطع الحلقوم والمريء وأحد الودجين، والصحيح قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى – اھ(5/287)۔
قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اگر اس کی کھال میں کیڑا نکل آئے، توایسی قربانی کاحکم
یونیکوڈ احکام ذبح 0