عرض یہ ہے کہ مشرک کا ذبیحہ حرام ہے، مگر آج کل بازاروں میں جو مرغی فروش اور قصائی ہیں، جو مختلف فرقوں سے تعلق رکھتے ہیں، اگر ان میں سے کوئی شیعہ، بریلوی یعنی قبر پرست لوگ ہوں تو کیا ان کا ذبیحہ حلال ہوگا یا نہیں؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دے کر ثوابِِ دارین حاصل کریں۔
بریلوی کا ذبیحہ تو حلال ہے، البتہ شیعہ اگر اثنا عشری یا کسی کفریہ عقیدہ کا حامل ہو تو اس کا ذبیحہ حرام ہے،اور اگر ایسا نہ ہو محض نام کا شیعہ ہو یا صرف حضرت علی۔رضی اللہ عنہ۔ کی حضراتِ شیخین۔رضی اللہ عنھما۔ پر افضلیت کا قائل ہو تو ایسا شیعہ اگر بدعتی ہو تو اس کا ذبیحہ حلال ہے۔
کما فی الدر المختار: (لا) تحل (ذبيحة) غير كتابي من (وثني ومجوسي ومرتد)(6/298)
وفی البدائع: ومنھا ان یکون مسلماً او کتابیاً فلاتؤکل ذبیحة اھل الشرک لانه لایقر علیٰ الدین الذی انتقل علیه اھ (5/45)۔
قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اگر اس کی کھال میں کیڑا نکل آئے، توایسی قربانی کاحکم
یونیکوڈ احکام ذبح 0