السلام علیکم! حضرت! مکہ میں ایک مدرسہ ہے، مدرسہ صولتیہ ،انڈیا والوں کا ہے، کافی پرانا ہے ، وہ حضرات حجاج کرام کے لیے قربانی کا انتظام کرتے ہیں ، ان کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ دس ذی الحجہ کی نماز عشاء کے بعد قربانی شروع کرتے ہیں اور گیارہ کی فجر تک ختم کر دیتے ہیں اور گوشت صبح لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں، تو کیا رات کو قربانی کرنا جائز ہے؟
قربانی دن کے اوقات میں کرنا بہتر اور مستحب ہے، تاہم اگر روشنی کا پورا انتظام ہو تو رات کے اوقات میں بھی قربانی درست ادا ہو جاتی ہے۔
کما فی الہندیة: والمستحب ذبحها بالنهار دون الليل؛ لأنه أمكن لاستيفاء العروق، كذا فی الجوهرة النيرة اھ (5/ 29)۔
قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اگر اس کی کھال میں کیڑا نکل آئے، توایسی قربانی کاحکم
یونیکوڈ احکام ذبح 0