السلام علیکم! سوال یہ ہے کہ اگر قربانی کے جانور کی کھال میں ذبح کرنے کے دوران کوئی کیڑا یعنی ’’میرو‘‘نامی کیڑا نکل آئے، جبکہ قربانی کا جانور خریدتے وقت اس کے متعلق پتہ نہ ہو تو کیا قربانی ہو جاتی ہے؟
شرعاً و عرفاً یہ عیب نہیں، اس لئے بعد میں ایسے کیڑوں کے معلوم ہونے سے قربانی متاثر نہیں ہوگی ، ہاں اگر خریدنے سے پہلے معلوم ہو جائے ،تو بہتر ہے کہ ایسا جانور خریدنے سے احتراز کیا جائے ۔
ففي الفتاوى الهندية: ومن المشايخ من يذكر لهذا الفصل أصلا ويقول كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع اھ (5/ 299)۔
و في بدائع الصنائع: وأما الذي يرجع إلى محل التضحية فنوعان أحدهما سلامة المحل عن العيوب الفاحشة فلا تجوز العمياء ولا العوراء البين عورها والعرجاء البين عرجها وهي التي لا تقدر تمشي برجلها إلى المنسك والمريضة البين مرضها اھ (5/ 75) -
قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اگر اس کی کھال میں کیڑا نکل آئے، توایسی قربانی کاحکم
یونیکوڈ احکام ذبح 0