نجاسات اور پاکی

الٰہ تناسل سے لیس دار مادہ نکلنے کی صورت میں وضو اور کپڑوں کا حکم

فتوی نمبر :
20284
| تاریخ :
2013-09-03
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

الٰہ تناسل سے لیس دار مادہ نکلنے کی صورت میں وضو اور کپڑوں کا حکم

میرا سوال یہ ہے کہ میں یورپ میں رہتا ہوں ، وہاں سیکس عام ہے، راہ چلتے اگر نظر پڑ جائے تو میرا آلۂ تناسل کھڑا ہو جاتا ہے ، اور اس سے لیس دار مادہ نکلتا ہے، جو کپڑوں کے ساتھ لگ جاتا ہے، ایسے دن میں ۳ سے ۴ بار ہوتا ہے،مگر میں وضو کر کے نماز پڑھ لیتا ہوں کیا میری نماز ہوجاتی ہے؟ کیونکہ ہر بار تو کپڑے تبدیل کرنا ممکن نہیں ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

وضو کر کے متعلقہ جگہ دھو لینا کافی ہے، اس صورت میں نماز درست ہو جائےگی، غسل کی ضرورت نہیں، البتہ سائل کو حتی الامکان حفاظت نظر کی ضرورت ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الفتاوى الهندية: تطهير النجاسة من بدن المصلي وثوبه والمكان الذي يصلي عليه واجب هكذا في الزاهدي اھ (1/ 58)
وفی التنویر: طهارة بدنه من حدث وخبث وثوبه ومکانه اھ (1/ 402)واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیق اللہ امیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 20284کی تصدیق کریں
0     607
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات