اسلام علیکم
جناب عالی
میری ولدیت کے خانے میں میرے سوتیلے والد کا نام لکھ دیا گیا ہے ۔ جس کا مجھے ابھی پتہ چلا ہے میری عمر تقریبا 35 سال ہے اس حوالے سے ہمارے دین کے اندر کیا احکامات ہیں اور کیا یہ درست ہے یا ایسے ہی چلنے دیا جائے یا تبدیل کرایا جانا ضروری ہے اس حوالے سے میری رہنمائی کریں آپ کا بہت شکریہ
واضح ہو کہ اپنی نسب کو حقیقی والد کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف منسوب کرنا شریعتِ مطہرہ میں حرام ہے۔ چنانچہ اگر سائل نے اپنے حقیقی باپ کے بارے میں واقعی طور پر علم نہ ہو نے کی وجہ سے کاغذات میں ولدیت کے خانے میں حقیقی والد کے بجائے سوتیلے واالد کا نام درج کروایا ہو ، تو وہ اگرچہ حدیث میں وارد وعید کا مستحق نہیں ہوگا۔ لیکن اب ، جب سائل کو یہ حقیقت معلوم ہوچکی ہے تو اسے بعد جلد از جلد اس کی تصحیح کی کوشش کرنی چاہیے ، اور تمام کاغذات میں درست ولدیت لکھنی، اور بتانی چاہیے،تاکہ اس گناہ سے بچاجاسکے البتہ سرپرست کے خانے میں سوتیلے والد کا نام لکھناجائزہے۔
کمافی معجم الطبرانی وقال ابن بطال: ليس معنى الحديث أن من اشتهر بالنسبة إلى غير أبيه أن يدخل في الوعيد كالمقداد بن الأسود، وإنَّما المراد به من تحول عن نسبته لأبيه إلى غير أبيه عالماً عامداً مختاراً، وكانوا في الجاهلية لا يستنكرون أن يتبنى الرجل ولد غيره ويصير الولد يُنسب إلى الذي تبناه حتى نزل قوله تعالى: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ} وقوله سبحانه وتعالى: {وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ} فنسب كل واحد إلى أبيه الحقيقي، وترك الانتساب إلى من تبناه، لكن بقي بعضهم مشهوراً بمن تبناه، فيذكر به لقصد التعريف لا لقصد النسب الحقيقي، كالمقداد بن الأسود وليس الأسود أباه وإنما كان تبناه واسم أبيه الحقيقي عمرو بن ثعلبة بن مالك بن ربيعة، وكان أبوه حليف كندة فقيل له الكندي، ثم حالف هو الأسود بن عبد يغوث الزهري فتبنى المقداد فقيل له ابن الأسود. اھ(ج:2 ص : 999 باب التعلیق علی الحدیث)
وفي مرقاة المفاتيح :وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا ترغبوا عن آبائكم، فمن رغب عن أبيه فقد كفر» . متفق عليه.وذكر حديث عائشة: ( «ما من أحد أغير من الله» ) : وتحت قولهوالادعاء إلى غير الأب مع العلم به حرام، فمن اعتقد إباحته كفر لمخالفة الإجماع، ومن لم يعتقد إباحته فمعنى (كفر) : وجهان، أحدهما: أنه أشبه فعله فعل الكفار، والثاني: أنه كافر نعمة الإسلام. قال الطيبي: ومعنى قوله: فالجنة عليه حرام على الأول ظاهر، وعلى الثاني تغليظ (متفق عليه)الخ(ج: ص: 2170 باب اللعان ،ناشر: دار الفکر بیروت)
وفي صحيح البخاري :عن أبي ذر رضي الله عنه:أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: (ليس من رجل ادعى لغير أبيه - وهو يعلمه - إلا كفر، ومن ادعى قوما ليس له فيهم نسب، فليتبوأ معقده من النار).(ج؛3 باب نسبۃ الیمن الی اسماعیل ص :1292 ناشر دار ابن کثیر)
والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟
یونیکوڈ لے پالک کے احکام 0