مختصر اور واضح سوال! کیا امام مسجد کے لئے موجودہ دعوت و تبلیغ کی محنت میں لگنا ضروری ہے۔ اور امام مسجد کو تبلیغی بیانات میں بیٹھنے کے لئے مجبور کرنا کیسا ہے؟ اور اگر کسی شرعی عذر کے بغیر بھی نہ بیٹھے تو کیا حکم ہے؟ امامت سے برخاست کر دیا جائےگا؟
کوئی بھی عالم یا مسجد کا امام اور متبع سنت عالم گاہے گاہے اپنی مرضی وخوشی سے تبلیغی مجالس وبیانات میں شامل ہوا کرے تاکہ اس کی وجہ سے عام لوگوں کی اصلاح ہو سکے تو اس کی یہ شرکت باعث اجر وثواب ہوگی مگر امام مسجد کو تبلیغی بیانات میں بیٹھنے پر مجبور کرنا اور کسی عذر کی بناء پر یا بغیر کسی عذر کے ان مجالس میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے امام مسجد کی بے اکرامی کرنا یا اس کو امامت سے فارغ کرنا شرعا جائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدر: وللشاب العالم أن یتقدم علی الشیخ الجاہل ولو قریشیا قال تعالی: والذین اوتو العلم درجات فالرافع ہو اللہ تعالیٰ فمن یضعہ یضعہ اللہ فی جہنم وہم اولو الامر علی الاصح وورثۃ الانبیاء بلا خلاف الخ. (:۶/ ص: ۷۵۶)
ومن القواعد: لا جبر علی التبرعات۔۔۔۔۔۔۔واللہ اعلم