نجاسات اور پاکی

کپڑے دھونے کا مسنون طریقہ

فتوی نمبر :
32522
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

کپڑے دھونے کا مسنون طریقہ

کپڑے دھونے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کپڑے دھونے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر اس پر ایسی نجاست لگی ہو ، جو نظر آنے والی ہے ، تو اس کپڑے کو اتنا دھویا جائے کہ نجاست زائل ہو جائے اور نجاست نظر آنے والی نہ ہو تو پھر اس کپڑے کو اتنا دھویا جائے کہ نجاست زائل ہونے کا ظنِ غالب ہوجائے اور اگر دھونے والا شکی مزاج ہو تو تین مرتبہ پانی میں ڈال کر دھویا جائے اور ہر مرتبہ کپڑے کو نچوڑے بھی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (و كذا يطهر محل نجاسة) أما عينها فلا تقبل الطهارة (مرئية) بعد جفاف كدم (بقلعها) أي : بزوال عينها و أثرها و لو بمرة أو بما فوق ثلاث في الأصح (الیٰ قوله) (و) يطهر محل (غيرها) أي : غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفا و إلا فمستعمل (طهارة محلها) بلا عدد به يفتى (و قدر) ذلك لموسوس (بغسل و عصر ثلاثا) أو سبعا (فيما ينعصر) مبالغا بحيث لا يقطر اھ (1/338)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 32522کی تصدیق کریں
0     1355
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات