میر اسوال طہارت سے متعلق ہے، میں دیسی باتھ روم استعمال کرتا ہوں، جب میں استنجاء کرتا ہوں تو کچھ پانی جو نکا سیج میں چلا جاتا ہے، وہ میرے پیچھے حصہ پر لگ جاتا ہے، تو میں اپنے ہاتھ میں کچھ پانی لیتا ہو ں اور اسے صاف کرتا ہوں ، کیونکہ پیچھےحصہ کو صاف کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، پلیز مجھے بتائیں کہ اپنے آپ کو صاف کرنا کافی ہے یا مجھے غسل کرنا چاہیئے؟
واضح ہو کہ ہاتھ سے پانی لیکر دھونے سے وہ حصہ پاک ہو جاتا ہے، تو سائل کو غسل کرنے کی ضرورت نہیں اور اگر ہاتھ سے پانی لیکر صاف کرنے سے وہ حصہ پاک نہ ہو تا ہو ، تو پھر زیادہ مقدار میں پانی بہا کر اس کو صاف کرنا چاہیئے۔
كما فی رد المحتار : (و) عفی ( إلى قوله) (و بول انتضح كرؤوس إبر) اھ (1/332)۔
و فی الفتاوی الھندية : المغلظة و عفي منها قدر الدرهم (إلى قوله) قدر عرض الكف اھ (1/45)۔