نجاسات اور پاکی

ناپاک پانی جسم پر لگنے سے غسل کا حکم

فتوی نمبر :
35172
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

ناپاک پانی جسم پر لگنے سے غسل کا حکم

میر اسوال طہارت سے متعلق ہے، میں دیسی باتھ روم استعمال کرتا ہوں، جب میں استنجاء کرتا ہوں تو کچھ پانی جو نکا سیج‬‎‬‬ میں چلا جاتا ہے، وہ میرے پیچھے حصہ پر لگ جاتا ہے، تو میں اپنے ہاتھ میں کچھ پانی لیتا ہو ں اور اسے صاف کرتا ہوں ، کیونکہ پیچھے‬‎‬‬حصہ کو صاف کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، پلیز مجھے بتائیں کہ اپنے آپ کو صاف کرنا کافی ہے یا مجھے غسل کرنا چاہیئے؟‬‎ ‎‫‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

‬‎ ‎‫واضح ہو کہ ہاتھ سے پانی لیکر دھونے سے وہ حصہ پاک ہو جاتا ہے، تو سائل کو غسل کرنے کی ضرورت نہیں اور اگر ہاتھ‬‎‬‬‬‬‬‬ سے‬‎ ‎‫پانی لیکر صاف کرنے سے وہ حصہ پاک نہ ہو تا ہو ، تو پھر زیادہ مقدار میں پانی بہا کر اس کو صاف کرنا چاہیئے۔‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬

مأخَذُ الفَتوی

‬‎‬‬‬‬ كما فی رد المحتار : (و) عفی ( إلى قوله) (و بول انتضح‬‎‬‬ كرؤوس إبر) اھ (1/332)۔
و فی الفتاوی الھندية : المغلظة و عفي منها قدر الدرهم (إلى قوله)‬‎‬‬ قدر عرض‫ الكف اھ (1/45)۔‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 35172کی تصدیق کریں
0     760
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات