میں نے 3 لاکھ مال حرام بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کرنا ہے ؟ کیا اپنے ماموں کو ٹریکٹر لے کر دے سکتا ہوں؟
سائل کے پاس جو حرام مال موجود ہے اگر اس کا اصل مالک یا اس کا کوئی وارث معلوم ہو تو اسے واپس کر دینا لازم ہے، البتہ اگر اصل مالک اور وارث معلوم نہ ہو یا اسے رقم واپس کرنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں اس رقم کو بلانیت ثواب کسی مستحق زکوٰۃ پر صدقہ کرنا لازم ہے، چنانچہ سائل کا ماموں اگر مستحق زکوٰۃ ہو تو اسے بھی یہ رقم یا اس کے ذریعہ خریدا جانے والا ٹریکٹر دیا جا سکتا ہے۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله إلا في حق الوارث إلخ) أي فإنه إذا علم أن كسب مورثه حرام يحل له، لكن إذا علم المالك بعينه فلا شك في حرمته ووجوب رده عليه (إلى قوله) مات رجل ويعلم الوارث أن أباه كان يكسب من حيث لا يحل ولكن لا يعلم الطلب بعينه ليرد عليه حل له الإرث والأفضل أن يتورع ويتصدق بنية خصماء أبيه. اهـ (5/ 99) والله اعلم بالصواب