میں ایک کمپنی میں کام کر رہا ہوں ، میرے فرائض کمپنی امور اور مالک کے ذاتی معاملات کی دیکھ بھال کرنا ہے۔ میری کمپنی کے مالک کا بھائی مجھے اپنی ذاتی اراضی فروخت کرنے کا ٹاسک دے، جس سے میں کبھی انکار نہیں کرتا ہوں ، میں اراضی بیچنے کےلیے اپنے پرانے دوست پراپرٹی بروکر کے پاس جاتا ہوں۔ اگر پراپرٹی بروکر نے میری کمپنی کے مالک کے بھائی سے فروخت پر کمیشن حاصل کیا اور بغیر کسی مطالبہ کے مجھے دے دیا، تو کیا یہ حلال ہے؟ یہ یاد رکھیں کہ کمپنی مجھے اس کام کی تنخواہ نہیں دے رہی ہے اور اس اضافی کام کے لیے مجھے کوئی اضافی رقم بھی نہیں دے رہی ہے اور میں جانتا ہوں کہ اگر میں اپنی کمپنی کے مالک کے بھائی سے کوئی کمیشن مانگ رہاہوں تو وہ مجھے دینے سے انکار کردے گا۔ دوسری بات اگر اوپر کی حالت حلال نہیں ہے اگر پراپرٹی ایجنٹ مجھے کمیشن کی رقم قرض حسنہ کے طور پر دے ، اگر میں اس کو ادا کرنے میں ناکام ہوں تو اس نے مجھے معاف کر دیا، کیا یہ میرے لیے حلال ہے؟ براہ مہربانی رہنمائی کریں۔
اگرسائل مذکور شخص ( کمپنی کے مالک کے بھائی) کا ملازم نہ ہو، تو اس پر اس کے ذاتی کام کرنا شرعاً لازم بھی نہیں ، تاہم سائل اپنی مرضی و خوشی سے سپرد کردہ ذمہ داری قبول کر کے اس کی ذاتی اراضی فروخت کرنے میں تعاون کرتا ہے تو اس پر مالک کے علم میں لائے بغیر اس سے بذات خود یا پراپرٹی ڈیلر کے ذریعے کمیشن وصول کرنا شرعاً جائز نہیں، البتہ اگر پراپرٹی ڈیلر اپنی ذاتی رقم میں سے انہیں بطور کمیشن یا ناقابل واپسی قرض کی مد میں کچھ دیدے تو اس میں شرعاً بھی کوئی حرج نہیں۔
کما فی الفقۃ الاسلامی و ادلتہ: بيع السمسرة: السمسرة: هي الوساطة بين البائع والمشتري لإجراء البيع. والسمسرة جائزة، والأجر الذي يأخذه السمسار حلال؛ لأنه أجر على عمل وجهد معقول اھ (5/ 21)
کما فی الشامیۃ: و وفی الحاوی : سئل محمد بن سلمۃ عن اجرہ السمسار فقال ارجو ان لاباس اھ (6/ 63)