ہمارے ایک عزیز ہیں جو کہ پنج وقتہ نمازی ہیں، عصر سے مغرب کے اوقات مسجد میں قیام کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ اول تو کوئی ذریعہ معاش نہیں، دوسرے وہ کوئی کام کرنا بھی نہیں چاہتے۔ تعلیم کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں، مگر اب ان کا عقیدہ یہ ہے کہ پیسے کمانا اللہ سے دور کرتا ہے۔ اس کا استدلال وہ قرآن کی اس آیت سے دیتے ہے کہ " بے شک اللہ نے جن اور انس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے". سووہ ہمیشہ دوسروں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ انکی کفالت کریں، انکے اہل و عیال بھی اس بات سے نالاں ہیں، مگر کوئی نصیحت کرے تو وہ غصہ میں آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اللہ کی نافرمانی پر اکسا رہا ہے، کیوں کہ کھانا تو شیطانی کام ہے۔ وہ اس حدیث کی نفی کر دیتے ہیں کہ جنت میں حلال روزی کمانے والا میرے ساتھ ہو گا۔ اور کہتے ہیں کہ یہ حدیث قرآن کی آیت سے ٹکراتی ہے، کیا ان کا طرز عمل درست ہے؟ کیا سب نوکری پیشہ یا کاروباری افراد گنہگار ہیں ؟ کیا بیان کردہ حدیث درست نہیں، اور کیا یہ واقعي قرآن کی آیت سے ٹکراتی ہے؟ یہ جو اپنے سمجھانے والوں کو بدعائیں دیتے ہیں، کیا انکی بد دعا لوگوں کو لگ جائے گی؟ براہ مہربانی قرآن اور احادیث کی روشنی میں جواب دیں۔
سائل کے عزیز مذکور ڈاکٹر صاحب موصوف کا دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنا اور اللہ تعالی کی ذات پر کامل توکل اور اعتماد ررکھنا تو ایک اچھاا اور ایمان کی پختگی پرمبنی عمل ہے، لیکن جائز ذرائع اور اسباب کو اختیار کرتے ہوئے بقدر ضرورت اپنی اور اپنے زیر کفالت افراد کیلیے حلال رزق کمانے کے بجائے اپنی کفالت کا بوجھ دوسروں پر ڈالنا اور بقدر ضرورت مال کمانے کوبھی اللہ تعالی سے دوری کا سبب قرار دینا اور اپنے اس طرز عمل پر قرآن مجید کی آیت سے استدلال کرنا قطعا درست نہیں، بلکہ دیگر فرائض اور واجبات کی رعایت کرتے ہوئے حلال طریقے سے بقدر ضرورت دنیا کمانا بھی عبادت ہے ، اور دیگر فرائض کے بعد یہ بھی ایک فریضہ ہے، اور متعدد احادیث مبارکہ میں ایسے شخص کی بہت ساری فضیلتیں وارد ہو ئیں ہیں، لہٰذا ڈاکٹر صاحب موصوف پر لازم ہے کہ دیگر اعمال کے ساتھ حلال طریقے سے اپنی اور اپنے زیر کفالت افراد کیلیے بقدر ضرورت معاش کا بھی بند و بست کرے، تا کہ وہ دوسرے لوگوں کیلیے مشکلات اور پریشانی کا باعث نہ بنے۔
في الترغیب والترھیب للمنذري: وروي عن عبد الله بن مسعودٍ - رضي الله عنه - أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - قال: طلب الحلال فريضةٌ بعد الفريضة. رواه الطبراني والبيهقي اھـ(۲/۵۴۶) واللہ أعلم!