میرا ایک ویب سائٹ ہے جس پر میں کرکٹ کی نیوز سکور اور تصویر اور ویڈیوز ڈالتا ہو، صرف مردوں کی کرکٹ کی ، کیا اس کی کمائی جائز ہے؟ کیونکہ میں عورتوں کی تصویریں شیئر نہیں کرتا۔
نوٹ: سائل سے فون پر رابطہ کر کے یوں معلوم ہوا کہ ان کا ایک ویب سائٹ ہے اور ان کے ساتھ اس ویب سائٹ پر بہت سارے دوست ( Add) ہیں۔ اور سائل اس ویب سائٹ پر جب کسی کی کوئی چیز مثلاً موبائل وغیرہ کی تشہیر کرتا ہے تو اس تشہرپر سائل کو موبائل والے کی طرف سے پیسے دیئے جاتے ہیں تو کیا اس کی یہ کمائی جائز ہے ؟ سائل نے یہ بھی بتایا ہے کہ ہماری ویب سائٹ پر کسی چیز کے اشتہار کرتے وقت ساتھ ساتھ کرکٹ کی نیوز، اسکور ، تصویریں اور ویڈیوز وغیرہ بھی شیئر کرتے ہیں تاکہ اشیاء تک لوگوں کو پہنچانے میں ذریعہ بنے۔
واضح رہے کہ کسی چیز کی تشہیری مہم میں تعاون کر کے اس کا معاوضہ لینا تو جائز اور درست ہے، مگر فحش یا عورت کی تصویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کرکے اس کا معاوضہ لینا درست نہیں جس سے احتراز چاہیے۔
کما فی در المختار: الأجير (الأجراء على ضربين: مشترك وخاص، فالأول من يعمل لا لواحد) كالخياط ونحوه (أو يعمل له عملا غیر مؤقت) كأن استأجره للخياطة في بيته غير مقيدة بمدة كان أجيرا مشتركا وإن لم يعمل لغيره (أو موقتا بلا تخصيص) كأن استأجره ليرعى غنمه شهرا بدرهم كان مشتركا، إلا أن يقول: ولا ترعى غنم غيري وسيتضح.الخ (۶/ ۶۴)
و کما فی تکملۃ فتح الملھم:أما التلفزیون و الفدیو فلاشک فی حرمۃ استعمالھما بالنظر الی مایشتملان علیہ من المنکرات الکثیرۃ من الخلاعۃ و المجون و الکشف عن النساء المتبرجات او العاریات و ما إلی ذلک من اسباب الفسوق الخ( ۴/ ۱۶۴)۔
و کما فی المعاملات المالیۃ المعاصرۃ فی الفکر الافتصادی الإسلامی: الاعلان و الدعایۃ فیھما شبہ بعمل الدلال وجری علی ذلک عمل المسلمین و لم ینتقل انکارہ عن احد من اھل العلم،( و ھذا یدل علی انھا ای الدلالۃ ، من الاعمال المشروعۃ الرائحۃ المتوارثۃ بلانکیر) الخ (ص: ۶۷) و اللہ أعلم بالصواب