کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے بنک میں اکاؤنٹ کھلوایا ،جس اکاؤنٹ کا نام کرنٹ اکاؤنٹ ہے اس میں سود نہیں ہوتا، لیکن بینک والوں نے اس کیلئے اکاؤنٹ سود والا کھولا،اس کے علم میں نہیں آیا، چند دنوں کے بعد اس نے معلوم کیا تو سود تقریباً پندرہ سو روپے بن چکا تھا اب اس سود کے پیسے کا مصرف بیان فرماکر دعاؤں کے مستحق بن جائیں۔
صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور کو چاہئے کہ اپنا P.L.S اکاؤنٹ بند کرواکر A.C کھاتہ کھلوائے اور اب تک سودی کھاتہ میں جتنی رقم بطورِ سود اس کے کھاتہ میں جمع ہوئی ہے اس کا حکم یہ ہے کہ اس پوری رقم کو نکلواکر بلا نیت ثواب فقراء و مساکین کو ،اس پر مالک و قابض بنادے اور آئندہ کیلئے س قسم کے معاملات کرنے سے بھی مکمل اجتناب کرے۔