السلام علیکم!جناب عالی، قرآن و احادیث کی روشنی میں مسلمان اولیاء اللہ ، مومن، متقی، پرہیز گار، باشریعت، دیندار اور دین کی تعلیم و ترویج کیلئے معتبر اور ذمہ دار، یعنی اللہ کے دین کی تبلیغ و اشاعت انکی زندگی کا اصل مقصدہوتاتھا،اولیاء اللہ کی زندگی سے متعلق ،ان کے حسب ونسب، والدین، اولاد، مرشدین اور اعلی درجات وغیرہ انکی اپنی تصانیف سے بھی معلومات ملتی ہیں، سینکڑوں سالوں سے تمام دنیا میں لوگ اپنے عزیز واقارب کو ان کی موت پر اپنے قریب ترین جگہ پرتدفین کرتے هہیں، پاکستان بننے سے پہلے کی اس طرح کی بے شمار قبریں ہمیں اکثر جگہوں پر نظرآتی ہیں، جن کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ملتی ،مفاد پرست لوگ ان نامعلوم قبروں پر مقبرے بنا کر اور مختلف جھوٹی روایات پڑھ کر اپنا کاروبار شروع کر دیتے ہیں، ان مقبروں کے ساتھ بزنس کی دوکانیں بنا کر فروخت کرتے ہیں،آپ سے شریعت اسلامیہ کے مطابق سوال ہے کہ ان قبروں پر جو مقبرے بنے ہوئے ہیں، ان کی شرعي حیثیت کیا ہے ؟ ان سے منسلک غیر قانونی معاملات حلال ہو نگے؟ ان قبروں پر جو چندہ کی رقم جمع ہوتی ہے، اس کا معاملہ کیا ہو گا؟
واضح ہو کہ اولیاء کرام کی قبروں پر جانا باعث برکت اور ان کے وسیلے سے دعا کرناموجب قبولیت ہے ، تاہم ان اولیاء کی قبروں کو باقاعدہ بزنس اور کاروبار بنانا، یا مزارپر حاضری کی خاطر پھولوں یا ہاروںوغیرہ کیلیےدکانیں بنا کر فروخت کرنایا وہاں کے مجاوروں کے ذریعے چندہ اکھٹا کرنا اور ان قبروں میں مختلف منکرات کی اجازت د یناسب ناجائز اور حرام ہے جس سے احتراز لازم ہے ، اس لیےعوام الناس کیلیے اس طرح کے مزارات پر جانے اور ان منکرات میں شامل ہونے سے اجتناب لازم ہے، جبکہ حکومت وقت پر بھی لازم ہے کہ وہ ان منکرات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرے، تا کہ ان منکرات کا سدباب ہو سکے۔
في الفتاوی الھندية: ویکرہ ٲن یبني علی القبر مسجد، ٲو غیرہ، کذا في السراج الوھاج، ویکرہ عند القبر ما لم یعھد من السنۃ، والمعھود منھا لیس ٳلا زیارته، والدعاء عندہ قائما اھـ (۱/۱۶۶)
وفی شرح فقه الأكبر: والسجدة حرام لغیره سبحانه وتعالیٰ الخ (ص:۱۸۲)
وفیه أیضاً: ومن سجد للسلطان بنیة العبادة أو لم تحضره فقد کفر الخ (ص: ۱۸۲) واللہ أعلم بالصواب!