کیا ہم سود کی رقم سے ٹیکس ادا کر سکتے ہیں؟ جیسے حکومت کا ٹیکس، بجلی کے بل میں جنرل سیلز ٹیکس؟ اسی طرح تنخواہ سے انکم ٹیکس کی کٹوتی۔ براہ کرم ہماری رہنمائی کریں۔
واضح ہوکہ حرام مال کا حکم یہ ہے کہ اگر اس کا مالک معلوم ہو تو وہ رقم اس کو واپس کی جائے،لیکن اگر اس کا مالک معلوم نہ ہو تو پھر کسی مستحق زکوۃ فرد کو بغیر ثواب کی نیت کے دینا لازم ہے،اسکے علاوہ کسی مصرف میں خرچ کرنے سے وہ شخص بری الذمہ نہ ہوگا،لہذا سود کی رقم سوال میں مذکور ٹیکس وغیرہ میں ادا کرنا جائز نہیں،جس سے احتراز لازم ہے۔