السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ !کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ یوسف کے پاس تین ہزار روپے حلال کے ہیں، پانچ ہزار روپے حرام کے ہیں، اس نے ان رقم کو ملا کر خرچ کر دئیے، اس طور پر کہ تین ہزار کے کپڑے اور پانچ ہزار روپے سیر و تفریح اور اپنے کھانے میں خرچ کئے، اب وہ کسی عالم کے بیان سے متاثر ہو کر یہ نیت کرتا ہے، کہ میں نے یہ جو سامان خریدا ہے یہ میری حلال رقم کا ہے اور جو رقم میں نے سیر و تفریح وغیرہ میں خرچ کی ہے یہ حرام کی ہے، کیا اس کا یہ نیت کرنا صحیح ہے ؟ اور اس خریدے ہوئے سامان کا شریعت مطہرہ کی نظر میں کیا حکم ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرما کر عند الله ماجور ہوں- متعلم دارالعلوم دیوبند
صورت مسئولہ میں مسمیٰ یوسف نے حلال رقم کو حرام کے ساتھ اس طرح ملا دیا ہو کہ دونوں میں تمییز ممکن نہ رہی ہو ، تو یہ تمام رقم حرام کے حکم میں ہوگی، لہذا اس پوری رقم کے بدلے جو اس نے کھایا پیا ، خریدا ، سب حرام ہیں ، جبکہ خرچ کر دینے کے بعد محض یہ نیت کر لینا کہ جو کپڑے اس نے خریدے وہ حلال رقم کی عوض خریدے اور بقیہ حرام رقم تھی، شرعاً اس کا کوئی اعتبار نہیں ، اس لیے مسمی یوسف پر لازم ہے کہ وہ توبہ و استغفار کے ساتھ ساتھ حرام مال ( مذکور ہ پانچ ہزار روپے) کے بقدر رقم کسی مستحق کو بغیر نیت ثواب مالک بنا کر دیدے ، تاکہ مذکور مخلوط مال سے جو کچھ اس نے خریدا تھا وہ حرام سے پاک ہو جائے ۔
كما في الاشباه والنظائر : القاعدة الثانية من النوع الثاني: اذا اجتمع عند احد مال حرام وحلال فالعبرة للغالب ما لم یتبین اھ (۱/ ۱۴۷)
و في فقه البيوع : اما في بيان القسم الأول بغير عما یحصل بالعقود الباطلة فيما يأتى بالمغصوب والذي يقبض هذا الحرام بالغالب وذلك لسهولة التعبير ويشمل هذا التعبير كل مال حرام لا يملكه في الشرع سواء كان غصباً او سرقة او رشوة او رباً في القرض اھ (۲/ ۱۰۶)
وفيه ايضاً : المال المغصوب وما في حكمه مثل ما قبضه الانسان رشوة او سرقة او بعقد باطل شرعاً لا يحل له الانتفاع به ولا بيعه ولا هبه ولا يجوز لأحد يعلم ذلك ان يؤاخذ من شراء او هبة او ارثاً وجب عليه ان يرده الى مالكه فإن تعذر ذلك وجب عليه ان يتصدق به علیه اھ (۲/ ۱۰۵۲)
وفيه ايضاً: والخلاصة ان الغاصب اذا خلط الغصوب بماله ملكه وحل الانتفاع بقدر حصته على اصل أبی حنیفة ( الى ان قال) اما اذا باع او ذهب بعد استنفاد وحصته من الحلال فيدخل في الصور الثانية التي كل المخلوط فيها مغصوب ولا يحل له الانتفاع ولا الذي بیشتری او بتعب منه حتى يؤدى البدل الى المغصوب منه اھ (۲/ ۱۰۳۸) والله اعلم بالصواب