السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ !کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے انٹرنیٹ آن لائن سروس دینا شروع کی، (در حقیقت کوئی بھی سروس نہیں تھی بس ایک دھوکہ تھا) جب کلائنٹس آنا شروع ہوئے تو وہ فیس لے کر ان سے رابطہ ختم کر دیتا ہے ،اب اس نے کافی سارے لوگوں سے اسی طرح دھو کہ سے پیسے جمع کیے، بعد میں ان سےرابطہ بھی ختم کردیا ، اب زید نے اللہ تعالٰیٰ سے اپنے اس گناہ پر معافی مانگی اور وہ شرمسار ہے ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جن جن لوگوں کے ساتھ فرا ڈ کیا ہے اب ان تک ان کی رقم پہنچانا مشکل نہیں، نا ممکن ہوچکا ہے، کیونکہ ان کا پتہ نمبرز وغیرہ موجود نہیں ، اب مجموعی طور اس رقم کا اندازہ لگایا جائے ,مثال کے طور پر 2 لاکھ ہے ، اور زید اب 3 لاکھ بھی ادا کرنے کو تیارہے، جن کے پیسے ہیں وہ لوگ ہی نہیں مل رہے ہیں ،اب رہنمائی فرمائیں کس طرح ان کا حق ادا کیا جا سکتا ہے جس سے گناہ گار ہونے سے بچا جائے۔
صورتِ مسئولہ میں زید کا مذ کور طرزِ عمل دھوکہ دہی پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز و حرام تھا، جسکی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوا ہے ،لہذا زید پر لازم ہے کہ بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے اور آئندہ کیلئے دوبارہ اس قسم کے ناجائز کاموں سے مکمل اجتناب کرے ،تاہم اگر اصل مالکان یا ان کے ورثاء کا ہر ممکن کوشش کے باوجود بالکل بھی علم نہ ہو سکے تو ایسی صورت میں زید ان کی طرف سے مذکور رقم مستحقِ زکوٰۃ افراد پر صدقہ کردے ،لیکن اگر بعد میں کسی مالک نے اپنی رقم کا مطالبہ کیا تو زید پر اس سے معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ اس کی رقم لوٹانا شرعاً لازم ہوگا ، جبکہ زید کو اس صورت میں مذکور رقم کی ادائیگی پر نفلی صدقہ کا ثواب ملے گا۔
کما فی الدرالمختار : (عليه ديون و مظالم جهل أربابها و أيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله و إن استغرقت جميع ماله) هذا مذهب أصحابنا لا تعلم بينهم خلافا اھ
و فی ردالمحتار : تحت (قوله: جهل أربابها) يشمل ورثتهم ، فلو علمهم لزمه الدفع إليهم ؛ لأن الدين صار حقهم اھ(4/283)۔
و فیہ ایضاً : و الحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم ، و إلا فإن علم عين الحرام لا يحل له و يتصدق به بنية صاحبه اھ(5/99)۔