کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ
(۱) قبرستان میں درختوں کا لگانا ، کاٹنا کیسا ہے؟ ایک درخت اگر سوکھ جائے تو کاٹ لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور ان کا استعمال کرنا کیسا ہے؟
(۲) بعض حضرات نے یہ رواج عام بنالیا ہے کہ جمعرات کی شام کو مغرب کے بعد دعاؤں کا سلسلہ شروع کیا ہے اور کہتے ہیں کہ اس شام کو روحیں زمین پر اترتی ہیں، آیا یہ درست ہے یا نہیں کیا ان کا ایسا کرنا، دعا کیلئے جمعرات کی شام کو مخصوص بنالینا جائز ہے یا نہیں؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت کریں؟
(۳) مسئلہ یہ ہے کہ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ اگر قاتل کو قتل کرنے کی وجہ اور مقتول کو قتل ہونے کی وجہ معلوم نہ ہو تو وہ دونوں دوزخی ہیں تو کیا اہلِ کراچی کے لوگ جو بے گناہ قتل ہو رہے ہیں ان پر یہ حدیث صادق آتی ہے یانہیں؟
(۱) -قبرستان میں درخت وغیرہ لگانا جائز ہے اور قبرستان کی گھاس اور اس کے درختوں کے تروتازہ شاخیں کاٹنا مکروہ ہے، البتہ جو درخت وغیرہ سوکھ جائیں ان درختوں کے کاٹنے کی گنجائش ہے اور اس طرح کے درختوں وغیرہ سے حاصل شدہ آمدنی قبرستان کی ضروریات میں خرچ کردینا چاہئے۔
(۲) مرنے کے بعد کسی روح کا جمعرات یا کسی اور خاص دن میں زمین پر اُترنا شرعاً ثابت نہیں ہے، کیونکہ اول تو سب روحوں کو زمین میں تصرف اور سیر و تفریح وغیرہ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا، اورجن روحوں کو اس بات کا اختیار دیا جاتا ہے ان کیلئے بھی یہ لازم نہیں کہ وہ ہر جمعرات یا کسی خاص دن میں زمین میں ضرور اُتریں اور اپنے گھروں میں آئیں، اس لئے اس قسم کا عقیدہ رکھنا بلادلیل ہے شرعاً اس کا کوئی ثبوت نہیں۔
اور جب روحوں کے زمین پر اُترنے، ان کے تصرف وغیرہ کرنے یا اپنے گھروں میں آنے کا شرعاً کوئی ثبوت نہیں تو اس کو اصل قرار دے کر کسی خاص دن مثلاً جمعرات وغیرہ کو دعا کیلئے مختص کرلینا ایسا عمل ہے جس کا قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر میں کہیں ثبوت نہیں، لہٰذا یہ بدعت ہے جس سے احتراز بہرحال واجب ہے۔
(کذلک فی نور الصدور فی شرح القبور: ص۱۲۵)-
(۳) سوال میں جس حدیث شریف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان محض عصبیت کی بناء پر لڑائی ہو حق اور باطل کی تمیز کیلئے نہ ہو ، اس لڑائی کے دوران کوئی آدمی کسی ایک طرف سے بھی قتل ہوجائے، قاتل کو اس کے قتل کرنے کی وجۂ شرعی معلوم نہ ہو (یعنی جو اس نے قتل کیا ہے کیا شرعاً اس کیلئے یہ قتل کرنا جائز بھی تھا یا نہیں) سوائے عصبیت کے اور اسی طرح مقتول کو بھی سبب شرعی معلوم نہ ہو ، اور جب دونوں محض عصبیت کی بناء پر ایک دوسرے کے قتل کرنے کے خواہشمند تھے اور قاتل نے پہل کردی تو یہ اپنے ظالم ہونے کی وجہ سے اور مقتول اُسے قتل کرنے کا ارادہ رکھنے کی وجہ سے جہنم میں جائے گا۔
حدیثِ پاک کی مذکورہ بالا تشریح سے معلوم ہوگیا کہ اگر کسی جگہ کے لوگ عصبیت کی بناء پر ایک دوسرے کو قتل کریں تو وہ اس حدیث کی وعید کے تحت داخل ہوں گے، اور عام طور پر جو حالت خراب کئے جاتے ہیں، دہشت گردی کی جاتی ہے اور گولیاں برسائی جاتی ہیں اگر اس دوران گزرنے والا کوئی مسافر کسی گولی کا نشانہ بن جائے اور اس کی موت واقع ہوجائے تووہ اس حدیث کے تحت داخل نہیں ہوگا۔
فی الہندیۃ: ویکرہ قطع الحطب والحشیش من المقبرۃ فإن کان یابسا لا بأس بہ کذا فی فتاوٰی قاضی خان۔ اھـ(ج۱، ص۱۶۷)-
فی المشکوٰۃ: قال رسول اﷲ ﷺ والذی نفسی بیدہٖ لا تذہب الدنیا حتی یأتی علی الناس یوم لا یدری القاتل فیم قتل؟ ولا المقتول فیم قتل فقیل کیف یکون ذلک؟ قال الہرج، القاتل والمقتول فی النار۔ اھـ (ص۴۶۲)-
وفی التعلیق الصبیح: والحرب والقتل أی یکون بین طائفتین من المسلمین حرب للعصبیۃ وطلب الجاہ فیقتل بعضہم بعضا قولہ لا یدری القاتل فیم قتل بصیغۃ المعلوم ولا المقتول فیما قتل (الٰی قولہ) من غیر تمیز بین المحق والمبطل۔ اھـ (ج۶، ص۱۴۴)-
(الٰی قولہ) وأما القاتل فلأنہ ظالم وأما المقتول فإنہ أراد قتل صاحبہ وفیہ أن من نوی المعصیۃ یکون اٰثما۔ اھـ (ج۶، ص۱۴۴)-