امید ہے کہ آپ خیریت سے ہونگے، میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں نے کوئی دکان کرا ئے پر لی ہے اور میری دکان کے سامنے جو جگہ ہے اگر میں وہ جگہ کسی کو رینٹ پر دیدوں تو کیا یہ میرے لئے صحیح ہے ؟ آجکل ہر کوئی ایسا ہی کر رہا ہے، دکان رینٹ پر لے کر سامنے والی جگہ کسی اور کو دیدیتا ہے ، تو کیا اگر میں ایسا کرتا ہوں تو یہ پیسے میرے لئے صحیح ہونگے ؟ مہربانی کر کے اسکا جواب دیدیں ۔ جزاک اللہ ۔
دکاندار کے لئے اگرچہ دکان کے عین سامنے کسی اور شخص کو ٹھیہ وغیرہ لگانے سے منع کرنے کا حق حاصل ہے تاکہ دکان میں آنے جانے والوں کا راستہ بند نہ ہو ، تاہم دکان کے سامنے والی جگہ اگر دکان کا صحن اور مالک دکان کی ملکیت نہ ہو ، بلکہ شارع عام یا فٹ پاتھ وغیرہ کی صورت میں لوگوں کے گزرنے اور آنے جانے کا راستہ ہو تو چونکہ وہ دکان کے مالک یا کرایہ دار کی ملکیت نہیں ، اس لئے دکان کے مالک یا کرایہ دار کے لئے وہ جگہ کرایہ پر دینا جائز نہیں ، جس سے اجتناب لازم ہے ۔
كما في فتاوى الهندية : و منها ( أي من شرائط صحة الإجارة ) الملك و الولاية فلا تنعقد إجارة الفضولي لعدم الملك و الولاية الخ ( مطلب شروط الإجارة، ج 7، ص 399، ط: رشيدية)-
و فيها أيضا : و أما إذا بنى المشرعة على ملك العامة ثم أجرها من السائقين لا يجوز سواء أجر منهم للاستقاء أو أجر منهم ليقوموا فيها و يضعوا القرب الخ ( فصل في المتفرقات ، ج 7، ص 486 ، ط : رشيدية ) -واللہ اعلم