میں ایک انجنئیرنگ کنٹریکٹر کمپنی کا پارٹنرہوں، ہم مختلف کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے ہیں اور مختلف طرح کے لوگوں اور کمپنیاں ہم سے آفس، فیکٹریوں یا گھریلو کام کرواتی ہیں۔ میری کمپنی الیکٹریکل، پیول، فرنیچر اور ائیرکنڈیشنگ کا کام کرتی ہے۔ آپ سے سوال یہ ہے کہ ہم سے بینک بھی اپنا انجنئیرئینگ کا کام کرواتا ہے۔ جیسے نیا برانچ بنانا ، اس کی ڈیٹا کیبلنگ، الیکٹرک، فرنیچر جیسے کام شامل ہیں، کیا بینکوں کے کام سے ہونے والا منافع حلال ہے یا حرام؟ کیا ہم بینکوں کا صرف انجنیئرئنگ کا کام کر سکتے ہیں؟
آپ سے درخواست ہے کہ جلد سے جلد جواب دے دیں،کیونکہ مجھے نئی برانچ مل رہی ہیں جو میں صرف آپ کے جواب آنے تک شروع نہیں کرونگا۔ اللہ حافظ!
مذکور امور اختیار کرنا اگرچہ جائز ہے اس سے حاصل ہونے والی آمدنی ناجائز وحرام نہیں، مگر اس کام کے سودی ادارہ سے متعلق ہونے کی وجہ سے اس سے احتراز بہتر ہے۔
ففی الفتاوى الهندية: وإن استأجره ليكتب له غناء بالفارسية أو بالعربية فالمختار أنه يحل لأن المعصية في القراءة. كذا في الوجيز للكردري. (4/ 450)
و فی الدر المختار: (و) جاز تعمير كنيسة و (حمل خمر ذمي) بنفسه أو دابته (بأجر). لاعصرها لقيام المعصية بعينه. (6/ 391)
و فی الفتاوى الهندية: إذا استأجر رجلا ليحمل له خمرا فله الأجر في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وقال أبو يوسف ومحمد - رحمهما الله تعالى - لا أجر له اھ(4/ 449) والله أعلم بالصواب