کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص کسی مسجد میں امامت کرتا ہے اور اس کو تنخواہ بھی دی جاتی ہے ، لیکن وہ امام صاحب جمعہ کے دن اپنے لئے چندہ بھی کرتا ہے ، تو یہ چندہ اس کیلئے جائز ہے یانہیں؟
صورتِ مسئولہ میں چندہ دینے والے احباب کی نیت کا اعتبار ہے اگر وہ ضروریاتِ مسجد کیلئے چندہ دیتے ہیں ، تو امام موصوف کو اسے اپنے استعمال میں لانا قطعاً جائز نہیں ، بلکہ اس سے احتراز واجب ہے، البتہ اگر کوئی شخص تصریح کردے کہ یہ امام صاحب کیلئے ہے تو فقط وہ رقم ان کیلئے جائز ہوگی ، نیز اگر چندہ لیتے وقت بھی بتادیا جائے تب بھی امام کیلئے اس کا استعمال جائز ہوگا۔