السلام عليكم میرا سوال کرکٹ کے بارے میں ہے کیا پروفیشنل کرکٹ کھیلنا یا اسے ملنے والے پیسے حرام ہے یا حلال اگر کوئی بندا نماز اپنے ٹائم پے ادا کرتا ہو روزہ بھی رکتا ہو ذکر بھی کرتا ہو تو پھر اسکیلیے کیا حکم ہے کیونکہ جو پیسے ملتے ہے اسکو اپنے محنت کے ملتے ہیں اور محنت کے بغیر تو پروفیشنل کرکٹر بن بھی نہیں سکتے تفصیل سے وضاحت کرے شکریہ
واضح ہو کہ اگر کوئی شخص کرکٹ میں اس قدر مشغول نہ ہو، کہ جس کی وجہ سے فرائض اور واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی ہو رہی ہو، اور نہ ہی کھیل کے دوران غیر شرعی امور کا ارتکاب کرتا ہو (جیسا کہ مستور اعضاء کھلے ہوئے نہ ہوں) اور نہ ہی کھیل کا مقصد فقط لہو لعب میں مشغولیت ہو، بلکہ وہ جسمانی ورزش یا طبیعت کی تھکاوٹ کو دور کرنے کیلئے کھیلتا ہو، تو ایسی صورت میں اس کے کرکٹ کھیلنے کی گنجائش ہے، لیکن پروفیشنل کرکٹر بننے اور بعد میں اسے بطورِ پیشہ اپنے لئے ذریعہ معاش بنانے کی صورت میں مذکورہ بالا شرائط اور قیود کا لحاظ کرنا تقریباً ممکن نہیں ہوتا، بلکہ بسا اوقات ایسے امور بھی سرانجام دینے کی نوبت آتی ہے، جس کی شرعاً گنجائش نہیں ہوتی، اس لئے کرکٹ سمیت کسی بھی کھیل کود کو بطورِ پیشہ اختیار کرنے سے احتیاط ضروری ہے۔
کما فی الدر المختار: (والثانی) وھو الأجیر (الخاص) ویسمی أجیر وحد (وھو من یعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصیص ویستحق الأجر بتسلیم نفسہ فی المدۃ وإن لم یعمل کمن استؤجر شھرا للخدمۃ أو) شھرا (لرعی الغنم) المسمی بأجر مسمی. (ج٦، ص٦٩)
وفی الدر المختار: (و) کرہ تحریما (اللعب بالنرد و) کذا (الشطرنج) بکسر أولہ ویھمل ولا یفتح إلا نادرا (قال الشارح وإنما کرہ لأن من اشتغل بہ ذھب عناؤہ الدنیوی، وجاءہ العناء الأخروی فھو حرام وکبیرۃ عندنا، وفی إباحتہ إعانۃ الشیطان علی الإسلام والمسلمین کما فی الکافی قھستانی) وأباحہ الشافعی وأبو یوسف فی روایۃ ونظمھا شارح الوھبانیۃ فقال: ولا بأس بالشطرنج وھی روایۃ... عن الحبر قاضی الشرق والغرب تؤثر:
وھذا إذ لم یقامر ولم یداوم ولم یخل بواجب وإلا فحرام بالإجماع. (و) کرہ (کل لھو) لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام ’’کل لھو المسلم حرام إلا ثلاثۃ ملاعبتہ أھلہ وتأدیبہ لفرسہ ومناضلتہ بقوسہ‘‘.
(وقال الشارح) (قولہ وکرہ کل لھو) أی کل لعب وعبث فالثلاثۃ بمعنی واحد کما فی شرح التأویلات والإطلاق شامل لنفس الفعل، واستماعہ کالرقص والسخریۃ والتصفیق وضرب الأوتار من الطنبور والبربط والرباب والقانون والمزمار والصنج والبوق، فإنھا کلھا مکروھۃ لأنھا زی الکفار، واستماع ضرب الدف والمزمار وغیر ذلک حرام وإن سمع بغتۃ یکون معذورا ویجب أن یجتھد أن لا یسمع قھستانی. (رد المحتار: ج٦، ص٣٩٤، ٣٩٥) واللہ اعلم بالصواب