محترم مفتی صاحب: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
فتویٰ نمبر: 13318
تاریخ :12 دسمبر 2008 (9/4/1440ھ)
ضمنی سوال: محولہ بالا میں ایک ضمنی سوال کا جواب مرحمت فرمائیں؟َ
آپ نے سوال کے جواب میں فرمایا تھا کہ یہ رقم ضمان ہے اور ادارے کو ہی لازماً واپس کرنا ہوگی، چونکہ سرکاری ادارہ ایسی کوئی رقم براہ راست وصول نہیں کرتا، اسلئے اس رقم کی ادائیگی ادارے کو ممکن نہیں، البتہ اس سرکاری ادارے نے نادار بچوں کی تعلیم کے لئے فنڈ قائم کر رکھا ہے، اور اس فنڈ میں ادارہ رقم وصول کرتا ہے، کیا میں یہ رقم ادارے کے اس فنڈ میں جمع کراکر سرخرو ہوسکتا ہوں؟رہنمائی فرمائیں، والسلام۔
مذکور رقم میں اگر ادارہ دیگر لوگوں سے رقوم وصول کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی رقم بھی خرچ کرتا ہو، تو ضمان کی رقم اس فند میں جمع کروانے سے سائل بری الذمہ شمار ہوگا۔
کما فی الدر المختار: غصب دراھم انسان من کیسہ ثم ردھا فیہ بلا علمہ برئ وکذا لو سلمہ الیہ بجہۃ اخری کھبۃ او ایداع او شراء وکذا الخ (ج6 صـ182 ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: سئل أبو عصمة عن رجل غصب من كيس رجل دراهم فأنفقها، ثم أعادها في كيسه مثل ما كان أخذ من غير أن يعلم صاحبه وخلطها بدراهمه فقال الأمر موقوف حتى يعلم أن صاحب الكيس أنفق جميع ما في كيسه أو حمل الكيس من موضعه فحينئذ يسقط عنه الضمان الخ (ج5 صـ136 ط: دار الفکر9)۔