میں یونیورسٹی کا طالب علم ہوں، دوران داخلہ میرا فارم گم ہوگیاتو میرے کزن نے کچھ با اثر ذرائع سے میرا داخلہ کروا دیا، چونکہ میں ان دنوں بیمار تھا لہذا انہیں نہ روک سکا، تو کیا اس ذریعے میری تنخواہ حلال رہے گی؟ مجھے اس بات کا پہلے اندازہ نہیں تھا؟
مستفتی: علی احمد
سائل کا داخلہ اگر مذکور یونیورسٹی میں بنیادی طور پر تعلیمی قابلیت اور تجربہ وغیرہ کی بنیاد پر ہوا ہو، مگر دوران داخلہ، فارم گم ہوجانے کی وجہ سے اگرچہ دیگر ذرایع کا سہارا لینے کی ضرورت پڑی ہو، تب بھی یہ داخلہ درست ہو اہے، چنانچہ اس تعلیم کے بعد سائل نے اگر کوئی ملازمت اختیار کرلی تو اس کی آمدنی بلاشبہ جائز اور حلال ہوگی۔
کما فی الاشباۃ والنظائر للسبکی: "الضرورات تبيح المحظورات بشرط عدم نقصانها عنها" الخ (ج1 صـ45 دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی اعلاء السنن: الرشوۃ ما یعطی لابطال حق او لاحقاق باطل اما اذا اعطی لیتوصل بہ الی حق او لیدفع بہ عن نفسہ ظلما فلا باس بہ الخ (ج15 صـ60)۔
وفی البحر الرائق: بعد ما ظهر الفساد وتغيرت أحوال القضاء والعمال حتى لا يقيموا الحق إلا بالرشوة فيكون على هذا التقدير مصره أسهل لإثبات حقوقه. اهـ (ج5 صـ229 کتاب الکفالۃ ط: دار الکتاب الاسلامی)۔
وفی رد المحتار: الثالث: أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط الخ (ج5 صـ362 ط: دار الفکر)۔
وفیہ ایضاً: كما لو اضطر إلى دفع مرشوة لإحياء حقه جاز له الدفع وحرم على القابض الخ (ج5 صـ72 ط: دار الفکر)۔