السلام علیکم ! یونیورسٹیوں اور کالجوں میں ماسٹر لیول پر طلباء کو ریسرچ مقالہ لکھنا ہوتا ہے،اب اگر کوئی طالب علم خود یہ مقالہ نہ لکھے بلکہ کسی دوسرے شخص کو پیسے دے کر مقالہ لکھوائے اور مقالہ لکھنے والا شخص بھی پیسوں کا مطالبہ کرے تو مقالہ لکھنے والے شخص کے لیے ان پیسوں کا کیا حکم ہے؟ نیز طالب علم کا خود مقالہ نہ لکھنا تو ایک غیر قانونی کام ہے،لیکن مقالہ لکھنے والے دوسرے شخص کےلیے مقالہ لکھ کر پیسے لینا جائز ہے؟ بلکہ یہ بھی ایک غیر قانونی کام ہے اور چھپ کر کیا جاتا ہے،دوسری طرف مقالہ لکھنے والا تو اپنی محنت کی پیسے لیتا ہے،اگرچہ غیر قانونی ہے،صاف الفاظ میں واضح فرمائے کہ یہ پیسے ان کے لیے حلال ہے یا حرام؟
جب یونیورسٹی رول کے مطابق اپنا مقالہ کسی دوسرے سے لکھوانا قانونی جرم ہے،تو طالب علم کےلیے کسی دوسرے سے اپنا مقالہ لکھوانا اور اس دوسرے شخص کا اس مقالہ پر اجرت لینا دونوں ناجائز اور دھوکہ دہی پر مبنی عمل ہیں،لہذا مقالہ نویس شخص کو اس طرح کا مقالہ لکھ کر اجرت لینے سے احتراز لازم ہے۔
کمافی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: عن ابن عمر وأبي هريرة رضي الله عنهم، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ( «من حمل علينا السلاح فليس منا» ) . رواه البخاري. وزاد: ( «ومن غشنا فليس منا» ) . (6/ 2300)۔
وفی الدر المختار: باب الإجارة الفاسدة (الفاسد) من العقود (ما كان مشروعا بأصله دون وصفه، والباطل ما ليس مشروعا أصلا) لا بأصله ولا بوصفه (وحكم الأول) وهو الفاسد (وجوب أجر المثل بالاستعمال) لو المسمى معلوما ابن كمال (بخلاف الثاني) وهو الباطل فإنه لا أجر فيه بالاستعمال حقائق (ولا تملك المنافع بالإجارة الفاسدة بالقبض، بخلاف البيع الفاسد) فإن المبيع يملك فيه بالقبض(6/ 45)۔
وفی رد المحتار تحت (قوله والباطل) كأن استأجر بميتة أو دم أو استأجر طيبا ليشمه أو شاة لتتبعها غنمه أو فحلا لينزو أو رجلا لينحت له صنما (6/ 45)۔
وفیہ أیضاً: وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ(6/ 385)۔