میں نے اپنی پہلی بیوی کی اجازت سے دوسری شادی کی ہے،مگر دوسری بیوی کہتی ہے کہ اگر پہلی بیوی سے ہمبستری جیسے معاملات رکھے تو مجھے چھوڑنا پڑیگا،آئے روز اس بات کو لیکر جھگڑا معمول بن گیا ہے،اس بابت میں سخت پریشان ہوں،ابھی دوسری شادی کو ایک ماہ بھی نہیں ہوا،براہ مہربانی رہنمائی فرمائی جائے۔
سائل کا اپنی دوسری بیوی کے مطالبہ پر عمل کرتے ہوئے اپنی پہلی بیوی کے ازدواجی حقوق وغیرہ دیگر امور سے صرفِ نظر کرنا قطعا درست نہیں،بلکہ سائل کے ذمہ دونوں بیویوں کے نان ونفقہ وغیرہ دیگر حقوق میں برابری لازم ہے،سائل کو چاہیے کہ اس سلسلہ میں دوسری بیوی کو شریعت مطہرہ کے احکامات سے آگاہ کرکے اس کو سمجھانے کی کوشش کرے،ان شاء اللہ گھریلو جھگڑے ختم ہوجائیں گے۔
وفی الفتاوى الهندية: ومما يجب على الأزواج للنساء العدل والتسوية بينهن فيما يملكه والبيتوتة عندها للصحبة والمؤانسة(1/ 340)۔
وفی الھدایۃ: وإذا کان لرجل إمرأتان حرتان فعلیہ ان یعدل بینھما فی القسم الخ(2/368)۔