السلام علیکم ! عرض ہے کہ بندہ چکوال پنجاب سے تعلق رکھتا ہے ، میری شادی کو چھ سال ہو گئے ہیں ، میری بیوی مجھ سے بہت بد زبانی اور بد تمیزی کرتی ہے اور نافرمان بھی ہے ، مجھے اور میرےفوت شدہ والدین کو گالیاں دینا اس کا وطیرہ بن گیا ہے، کئی دفعہ ساس اور سسر کو اس کے متعلق بتایا ہے ، لیکن کوئی فرق نہیں پڑا ، وہ کہتے اس پر جادو ہو گیا ہے ، لیکن باہر کے لوگوں سے اس کا برتاؤ نارمل ہے ، میں ایک دفعہ ایک ماہ کے لئے ناراض ہو کر گھر چھوڑ کر چلا گیا کہ کیا پتہ عقل ٹھکانے آجائے پھر بھی کوئی فرق نہیں پڑا ، اب وہ دشمنی پر اتر آئی ہے ، مجھے ناحق بہت زیادہ بد نام کردیا ہے ، پڑوسیوں کے گھر، میرے رشتہ داروں کے گھر یہاں تک کہ میرے دوستوں کو فون بھی کیا ایسے عیب میرے اندر ڈال دیئے ہیں کہ مجھے اب شر م آتی ہے باہر نکلوں ، تو خدا کے خوف کی وجہ سے اسے طلاق نہیں دیتا ، اب وہ میری ذہنی صحت کے لئے خطرہ بن گئی ہے ، حضرت مجھے بتائیں میں کیا کروں ، کونسا کڑوا گھونٹ پیوں؟
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور مبالغہ آرائی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اس طور پر کہ سائل کی بیوی اس سے بد زبانی اور بدتمیزی کرتے ہوئے اسے اور اس کے والدین کو گالیاں دیتی ہو ، جبکہ بڑوں کے ذریعے اسے سمجھانے کی کوشش کے بعد رویہ درست کرنے کے بجائے اس نے سائل کو اس کے دوستوں وغیرہ میں ناحق بدنام کرنا شروع کر دیا ہو ، تو بیوی کا مذکور طرز عمل انتہائی قبیح اور ناجائز ہے ، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہی ہے ، اس پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرز عمل پر بصدقِ دل توبہ و استغفار اور شوہر سے دست بستہ معافی مانگتے ہوئے آئندہ کے لئے ان امور سے مکمل اجتناب کرے ، نیز شوہر کے حقوق کی ادائیگی کی فکر کرتے ہوئے آخرت کی پکڑ سے سبکدوشی حاصل کرے ، تاہم از خود اور بڑوں کے ذریعے سمجھانے کے باوجود بھی اگر بیوی مذکور طرز عمل سے باز نہ آتی ہو ، اور اس کے اس رویہ کی وجہ سائل کے لئے اللہ کے حدود کی پاسداری کرتے ہوئے اس کے ساتھ نباہ ممکن نہ ہو ، تو ایسی صورت میں سائل کے لئے طلاق یا خلع کے ذریعے اپنی بیوی کو اپنی زوجیت سے علیحدہ کرنے کی بھی شرعاً گنجائش ہوگی ، اور اس کی وجہ سے وہ گناہ گار بھی نہ ہو گا ۔
كما في رد المحتار: تحت ( قوله للشقاق ) أي لوجود الشقاق و هو الاختلاف و التخاصم و في القهستاني عن شرح الطحاوي السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما ، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلج انتهى (باب الخلع ، ج ۳ ص 441، ط : سعيد)-
و فيه أيضا : تحت ( قوله لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة ) و لا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا انتهى ( فصل في البيع ، ج 6، ص 427، ط : سعید)-