کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک مخلوط خاندانی رہائش رکھتا ہوں، میں ملک سے باہر ہوں، والدہ بوڑھی ہیں اور گھر کو نہیں سنبھال سکتی ہیں اس لئے میری بیوی کو ان کے ساتھ رہتے ہوئے یہ کرنا پڑتا ہے، بدقسمتی سے میری والدہ اور میری بیوی میں بہتر تعلقات نہیں ہیں، شکایات ملتی رہتی ہیں اور دونوں کا ہی قصور ہوتا ہے، اب میری بیوی کا کہنا ہے کہ وہ میرے والدین کیساتھ مزید نہیں رہ سکتی ہے کیونکہ گزارا مشکل ہوگیا ہے، مجھے کیا کرنا چاہئے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں میری مذہبی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ کیا میں اپنی بیوی کو الگ مکان میں منتقل کردوں یا مشترکہ رہائش پر مجبور کروں؟ بہرحال اگر میری بیوی اس پر تیار نہیں ہوتی ہے تو کیا اس کو طلاق دے دوں اور علیحدگی اختیار کرلوں؟
میں اپنے والدین کو ایک اچھی رقم اخراجات کیلئے دیتا ہوں جس میں وہ تمام تر سہولتوں کے ساتھ رہتے ہیں جیسے موٹر کار وغیرہ۔
سائل کا والدین کو مذکور اخراجات دینے کے باوجود اگر وہ اس کی خدمت کے محتاج ہوں اور سائل کے علاوہ کوئی دوسرا بیٹا، بیٹی وغیرہ اُن کی خدمت کیلئے موجود نہ ہو تو اس صورت میں وہ بیوی کو اپنے والدین کی خدمت کیلئے مجبور بھی کرسکتا ہے اور اس صورت میں بیوی کو چاہئے کہ شوہر کے ساتھ معاونت والا رویہ رکھے اور اس کے والدین کو بھی اپنے والدین تصور کرکے ان کی خدمت کو بھی اپنی سعادت سمجھے اور اسی میں اس کیلئے دنیا وآخرت کی بھلائیاں ہیں۔
تاہم شوہر کیلئے بیوی کو ایسا کمرہ فراہم کرنا جس میں کسی دوسرے شخص کی مداخلت نہ ہو اور بیوی اس میں اپنا ضروری سامان وغیرہ محفوظ رکھ سکے شرعاً واجب ہے لہٰذا اگر باہم رہائش رکھنے میں کسی قسم کے فتنہ کا اندیشہ ہو تو ساس و بہو میں علیحدگی ضروری ہے۔
وفی الدر: (وکذا تجب لہا السکنی فی بیت خال عن اہلہ) سوی طفلہ الذی لایفہم الجماع وامتہ وام ولدہ (واہلہا) ولو ولدہا من غیرہ (بقدرلہما) کطعام وکسوۃ وبیت منفرد من دادلہ غلق (الی قولہ) (کفاہا) لحصول المقصود ہدایۃ۔ اھـ (ج۳، ص۶۰۰) …… واﷲ اعلم!
وفی الدر: وحقہ علیہا ان تطیعہ فی کل مباح یامرہا بہ وقال الشامی تحت قولہ فی کل مباح ظاہرہ انہ عند الامر بہ منہ یکون واجبا علیہا کامر السلطان الرعیۃ بہ۔ اھـ(ج۳، ص۲۰۸)-