ترجمہ : میرےشوہر اور میری عمر میں پانچ سال کا فرق ہے ، ہماری شادی کو 5 سال ہوئے ہیں ،لیکن میں جب بھی اپنی مرضی سے ان کے پاس جاتی ہوں تو وہ تھکان یا سونےکا بہانہ کردیتا ہے،اور جب ان کی اپنی مرضی ہوتی ہے تو میں انہیں اپنے پاس آنے سے کبھی نہیں روکتی ،اسکا کیا حکم ہے،کبھی کبھی تو دھکا بھی دیتا ہے ، اسکا کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ جس طرح شوہر کے بیوی پرحقوق ہیں ، اسی طرح شریعت نے بیوی کے بھی شوہر پر حقوق لازم کیے ہیں ،لہذا اگر سائلہ کی طرف سے ححقوقِ زوجیت کی خواہش کا اظہار اور مطالبہ ہو تو سائلہ کے شوہر کیلئے سائلہ کو دھتکا رنا قطعاً مناسب نہیں ،بلکہ اگر واقعی کوئی عذر نہ ہو تو اسے اس موقع پر حقوقِ زوجیت کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہئیے ،تاکہ دونوں کی ازداوجی زندگی متاثر ہونے سےمحفوظ رہے۔
کما فی بدائع الصنائع : و للزوج أن يطالبها بالوطء متى شاء إلا عند اعتراض أسباب مانعة من الوطء كالحيض و النفاس و الظهار و الإحرام و غير ذلك، و للزوجة أن تطالب زوجها بالوطء ؛ لأن حله لها حقها كما أن حلها له حقه ، و إذا طالبته يجب على الزوج ، و يجبر عليه في الحكم مرة واحدة و الزيادة على ذلك تجب فيما بينه و بين الله تعالى من باب حسن المعاشرة و استدامة النكاح ، فلا يجب عليه في الحكم عند بعض أصحابنا ، و عند بعضهم يجب عليه في الحكم اھ(2/331)۔