30 سالہ خوشگوار شادی شدہ زندگی گزار کر ، جب اولاد بھی شادی شدہ ہوچکی ہو، بیوی گھر میں ہی شوہر سے علیحدگی اختیار کر لے اور حق زوجیت سے انکارکر دے اور اسے اذیت کہے، اور یہ کہے کہ میں اب شوہر کے ساتھ نہیں رہ سکتی، میری اپنی پرائیویٹ زندگی میرا حق ہے ، شوہر طلاق دینا چاہے تو دے دے، میں نہ طلاق مانگتی ہو ں نا خلع لیتی ہوں ، ایسے ہی مکمل علیحدگی سے ایک گھر میں رہتے رہیں ، شوہر میرے کسی معاملہ میں دخل اندازی و روک ٹوک نہ کرے، ایسی صورت حال میں شوہر کے لیے کیا شرعی حکم ہے ؟
کسی عورت کا اپنے شوہرکے ساتھ مذکور طرز عمل انتہائی قبیح اور ناجائز ہے ، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہی ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرز عمل پر بصدقِ دل توبہ و استغفار اورآئندہ کے لئے ان حرکات سے مکمل اجتناب کرے ، نیز شوہر کے حقوق کی ادائیگی کی فکر کرتے ہوئے آخرت کی پکڑ سے اپنے آپ کو بچائے، تاہم اگر ایسی بیوی باوجودسمجھانے کےمذکور طرز عمل سے باز نہ آتی ہو، اور اس کے اس رویہ اور آپس کے لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے حدود اللہ پر قائم رہتے ہوئے اس رشتہ کو برقرار رکھنا ممکن نہ ہو ، تو ایسی صورت میں شوہر طلاق یا خلع بالمال کے ذریعے اس کو اپنے نکاح سے آزاد کرسکتا ہے ، اور اس کی وجہ سے وہ گناہ گار بھی نہ ہو گا۔
کما فی احکام القرآن للجصاص: وقوله تعالى وعاشروهن بالمعروف أمر للأزواج بعشرة نسائهم بالمعروف ومن المعروف أن يوفيها حقها من المهر والنفقة والقسم وترك أذاها بالكلام الغليظ والإعراض عنها والميل إلى غيرها وترك العبوس والقطوب في وجهها بغير ذنب جرى مجرى ذلك نظير قوله تعالى فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان وقوله تعالى فإن كرهتموهن فعسى أن تكرهوا شيئا ويجعل الله فيه خيرا كثيرا يدل على أنه مندوب إلى إمساكها مع كراهته لها وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم ما يوافق معنى ذلك حدثنا محمد بن بكر قال حدثنا أبو داود قال حدثنا كثير بن عبيد قال حدثنا محمد بن خالد عن معروف بن واصل عن محارب بن دثار عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال أبغض الحلال إلى الله تعالى الطلاق ، وحدثنا عبد الباقي بن قانع قال حدثنا محمد بن خالد بن يزيد النيلي قال حدثنا مهلب بن العلاء قال حدثنا شعيب بن بيان عن عمران القطان عن قتادة عن أبي تميمة الهجيمي عن أبي موسى الأشعري قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوجوا ولا تطلقوا فإن الله لا يحب الذواقين والذوقات۔ فهذا القول من النبي صلى الله عليه وسلم موافق لما دلت عليه الآية من كراهة الطلاق والندب إلى الإمساك بالمعروف مع كراهته لها وأخبر الله تعالى أن الخيرة ربما كانت لنا في الصبر على ما نكره الخ ( ج 2 ص 109 ط: سہیل اکیڈمی )۔
کما فی الھندیۃ: إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية اھ (فصل في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق به،ج1،ص488،ط:ماجدیہ)۔