کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ لڑکی کے جہیزاور دیگر اشیاء کا کیا حکم ہے؟ اوربچے کی پرورش کا کیا حکم ہے؟۔
صورتِ مسئولہ میں لڑکی کے والدین نے اُسے جو کچھ زیورات وغیرہ جہیز میں دیئے ہیں وہ تمام زیورات اور جہیز کا باقی سامان لڑکی کی ملک ہے وہ اپنی ملک میں تصرف کرنے کی مختار ہے اورا س سامان میں سے جو کچھ باقی اور موجود ہو اگر وہ واپس لے جانا چاہے تو لے جاسکتی ہے، اور جو زیورات وغیرہ سسرال کی طرف اُسے پہنائے گئے ہیں تو ان میں رواج یا دینے والے کے قول کا اعتبار ہوگا؟ کیونکہ عام طور پر سسرال والے محض استعمال کیلئے بہو کو یہ زیور پہناتے ہیں، اُسے ان زیورات کا مالک نہیں بناتے اور بوقتِ ضرورت واپس لے لیتے ہیں، لہٰذا سسرال والوں نے اپنی بہو کو اگر ان زیورات کا مالک نہ بنایا ہو تو واپس لے سکتے ہیں۔
البتہ داماد کو اپنے سسرال کی طرف سے جو چیز، یا جانبین میں سے کسی دوسرے کو جو تحفہ وغیرہ دیا گیا ہے تو ان حضرات کو یہ چیز مستعار یعنی صرف استعمال کیلئے نہیں دی جاتی، بلکہ اس چیز پر انہیں مالک و قابض بنایا جاتا ہے، لہٰذا جانبین میں سے جس کسی کو جو چیز بطورِ ہدیہ اور تحفہ کے دی گئی ہے وہ اس کا مالک ہے اب اس سے واپسی کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ آپ کی طرف سے پندرہ دن کی مہلت پر ایک طلاق واقع ہونے کا جو پرچہ بہو کے نام ارسال کیا گیا ہے، اگر خاوند نے خود اپنی زبان سے ایک طلاق کا کہا ہے یا اس کی اجازت سے یہ پرچہ بھیجا گیا ہے تب تو وقتِ مذکورہ کے بعد ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی، جس میں عدت کے اندر اندر خاوند رجوع کرسکتا ہے اور اگر بغیر رجوع کئے عدت گزرگئی تو عدت کے بعد باہمی رضا مندی سے بغیر حلالہ کے نئے مُہر پر نکاح بھی ہوسکتا ہے۔
لیکن یاد رہے کہ مذکورہ بچے کی پیدائش سے اب تک اس کے باپ کو اپنے بیٹے کا مُنہ تک نہ دکھانا انتہائی نامناسب حرکت اور ظلم ہے، اس لئے انہیں چاہئے کہ آئندہ کیلئے اپنے اس رویہ سے باز آئیں اور اب تک جو گناہ ہوا ہے اس پر توبہ واستغفار بھی کریں، تاہم مذکورہ بچہ کی سات سال کی عمر تک پرورش کا حق اس کی ماں کو ہی حاصل ہے، بشرطیکہ وہ اس مدت کے دوران بچہ کے کسی غیر محرم کے ساتھ شادی نہ کرے اور اس عرصہ میں والد جب چاہے اپنے بیٹے کو دیکھ سکتا ہے، سسرال کا مانع ہونا شرعاً جائز نہیں۔
فی رد المحتار: المختار للفتوی، أن یحکم بکون الجھاز ملکا لا عاریۃ لانہ الظاھر الغالب إلا فی بلدۃ جرت العادۃ بدفع الکل عاریۃ فالقول الأب، واما إذا جرت فی البعض یکون الجھاز ترکۃ یتعلق بہا حق الورثۃ وھو الصحیح۔ اھـ (ج۳، ص۱۵۷)
وفیہ أیضًا: وحکمہا ثبوت الملک للموھوب لہ غیر لازم وفیہ: لو دفع إلٰی رجل ثوبا وقال ألبس نفسک ففعل یکون ہبۃ۔ اھـ (ج۵، ص۶۸۸، ۶۸۹)
وفی الدر المختار: والخاضئۃ أمًّا أو غیرھا أحق بہ أی بالغلام حتی یستغنی عن النساء وقدر بسبع، وبہ یفتی لانہ الغالب۔ الخ (ج۳، ص۵۶۶) واللہ اعلم بالصواب