میری امی میری بیوی سے گھر کا کام زیادہ لیتی ہے اور جیسے کسی اور کے کپڑے دلوانا اور کپڑے استری وغیرہ کروانا پھر میرے بیوی سارا کام کرتی ہے اور منع بھی نہیں کرتی تو کبھی کبھار مجھے کہتی ہے تو اس وجہ سے مجھے کیا کرنا چاہیے
صورت مسئولہ میں سائل کی بیوی اپنے شوہر کی خوشنودی کے لیے گھر کا سارا کام کرتی ہے۔ تو یہ ان کا حسن اخلاق اور گھر میں جوڑرکھنے کے لیے اچھا طرز عمل ہے، جس پر سائل کو بھی اس کا احسان مند ہوناچاہیے، تاہم ساس کا محض اپنی بہو پر کام کے بوجھ بڑھانے کے لیے گھرکے ضروری کام کے علاوہ اس سے دوسرو کے کپڑیں دھلوانا اور استری کروانا مناسب نہیں، سائل کو چاہیے کہ مناسب وقت اور صورت حال دیکھ کر اس سلسلہ میں اپنی والدہ سے بات بھی کرے، تاہم اپنی اہلیہ کو بھی ترغیب دیتے رہے، کہ جو کام اس کے ذمہ نہیں ہے، اس کے کرنے سے اگرچہ وقتی طورپر جسمانی تکاوٹ تو ہوگی، لیکن اس کی وجہ سے عنداللہ اجروثواب پانے کے ساتھ ساتھ گھریلوزندگی بھی ان شاء اللہ اچھی گزریگی۔