السلام علیکم !
مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی خاوند اپنی بیوی کے ازدواجی حقوق ادا نہیں کرتا، حتی کہ تقریبا عرصہ سات سال سے اس نے بیوی کے ساتھ بات تک نہیں کی۔اور بیوی کو طلاق دے کر آزاد بھی نہیں کرتا ایسے شخص کے بارے میں شریعت میں کیا حکم ہے؟ ایسے شخص کے لیے احادیث مبارکہ میں کیا وعید آئی ہے براہ کرم جواب حدیث کی روشنی میں عنایت فرمائیں۔ایسے شخص کے بارے میں حدیث میں کوئی وعید آئی ہے تو وہ ضرور ذکر کیجئے ، کیونکہ وہ شخص بہت مذہبی ہے اور حدیث کے بغیر بات مانتا ہی نہیں ہے۔
صورتِ مسئولہ کا بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، تو مذکور شخص کا عرصہ سات سال سے اپنی بیوی سے بات چیت اور تعلق قائم نہ کرنا اور نہ ہی طلاق دینا، شرعاً جائز نہیں ہے، بلکہ بیوی کی واجب حقوق میں حق تلفی کرنا اور اسے اپنے نکاح کے بندھن میں رکھ کر اس کو اذیت دینا انتہائی قبیح اور غیر شرعی فعل ہے، لہذا مذکورہ شخص کو چاہیے کہ وہ اگر اپنی بیوی کو نکاح میں رکھنا چاہتا ہے تو اس کے تمام جائز حقوق ادا کرنے کا اہتمام کرے، ورنہ ایک طلاق دے کر اپنے نکاح کی بندھن سے علیحدہ کردے، تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکے۔
قال اللہ تعالی:
وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيلُواكُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ وَإِنْ تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا [النساء،ایۃ:129]