کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی لکھی پڑھی اچھی جاب والی خاتون کی شادی جھوٹ کی بنیاد پر ایک نکمے شخص سے ہوجائے، اور اس شخص کی تعلیم اور ملازمت کے متعلق جھوٹ بولا گیا ہو شادی کے بعد پتہ چلے کہ نہ ہی وہ تعلیم یافتہ ہے اور نہ ہی کوئی جاب، پھر بھی بیوی شادی کو ایکسپٹ کرلے لیکن اس کے باوجود نہ تو شوہر ازدواجی حقوق ادا کرے اور نہ ہی خرچ اخراجات کی ذمہ داری اٹھائے بلکہ گھر بیٹھے بیٹھے کھاتا پیتا رہے، بیوی ڈیوٹی بھی کرے دن بھر اور پھر گھر آکر کھانا پکانا گھر کو سنبھالنے کی ذمہ داری بھی پوری کرے، اس کے باوجود بھی کہ مردانگی کمزوری کی وجہ سے بیوی کا حق تو ادا کرے لیکن اور عورتوں میں دلچسپی رکھے، یہاں تک کہ جوان بیٹی کے سامنے نوکرانی کا ہاتھ پکڑے، جس کی وجہ سے بیوی کی طبیعت بہت خراب ہوگئی ہے، اور اب وہ اپنے شوہر سے علیحدگی چاہتی ہے، تو ایسے میں ایسی عورت کے لئے شریعت میں کیا حکم ہے وہ اس جدائی اختیار کرنے پر گناہ گار ہوگی؟ جبکہ شوہر بیوی کی کسی قسم کا حقوق نان و نفقہ یا ازدوجی حقوق پورا نہیں کرتا، جو بھی حکم شرعی ہو تحریر فرمائیں، تاکہ بیوی عند اللہ گناہ گار نہ ہو۔
صورت مسؤلہ میں سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اورحقیقت پر مبنی ہو اور اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی اور جھوٹ کا سہارا نہ لیا گیا ہو تو سائلہ کے شوہر کا مذکور رویہ، بیوی سے دور رہنا نامحرم عورتوں میں دلچسپی رکھنا، نان نفقہ میں کوتاہی برتنا اور حسن سلوک سے پیش نہ آنا شرعاً و اخلاقاً درست طرز عمل نہیں جس سے احتراز لازم ہے، البتہ سائلہ کو چاہیئے کہ وہ علیحدگی و طلاق کا انتہائی فیصلہ لینے کے بجائے اپنے شوہر کو اچھے انداز اور نرمی سے سمجھائے اور جہاں تک ہوسکے اپنا گھر بسانے کی کوشش کرے اور اس حوالے سے اپنے خاندان کے بزرگوں اور بڑوں کی معاونت بھی حاصل کی جاسکتی ہے، لیکن ان ساری کوششوں کے باوجود بھی اگر شوہر اپنے رویہ میں تبدیلی لانے اور نان و نفقہ کی ذمہ داری اٹھانے پر راضی نہیں ہوتا تو ایسی صورت میں سائلہ اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرکے علیحدگی اختیار کرنے پر گناہ گار نہیں ہوگی۔
کما فی رد المحتار تحت: (قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع الخ(باب الخلع،ج3،ص441،ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ: إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية (کتاب الطلاق،ج1،ص488،ط:ماجدیہ)۔