کیا فرما تے ہیں مفتیا نِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر نے دو شادیاں کی ہیں ،دوسری شادی کو بھی تقریباً چالیس سال مکمل ہوچکے ہیں ،تب سے وہ اپنی دوسری بیوی کے پاس رہتا ہے ،مجھے اور بچوں کو چھوڑ چکا ہے ،ان کی پرورش اور شادیاں وغیرہ سب کچھ میں نے اپنی مدد آپ کےتحت کیا ہے ,میرے شوہر پرمیرے کیا حقوق ہیں ،یا میں ان سے کس چیز کا مطالبہ کرسکتی ہوں ،جبکہ اس نے اب تک میرا حق مہر بھی ادا نہیں کیا ،رہنمائی فرماکر مشکورہوں ۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا بیان اگر واقعۃْ درست اور مبنی برحقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سےکام نہ لیا گیا ہو ،بایں طور کہ واقعۃْ سائلہ کا شوہر حقوقِ زوجیت اور نان و نفقہ کی ادائیگی نہ کر رہا ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کےشوہر کا مذکورطرزِ عمل شرعاً درست نہیں, جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہا ہے ،لہذا اس پر لازم ہے کہ اپنی دونوں بیویوں کےدرمیان برابری کا معاملہ کرتےہوئے سائلہ کے نان ونفقہ کی ادائیگی کرے ،جبکہ بوقتِ نکاح طے شدہ حق مہر اگر سائلہ کےشوہرنےابھی تک ادا نہ کیا ہو تو اس کی ادائیگی بھی شرعاً شوہر پرلازم ہے ۔
فی الھدایۃ : و إذا كان للرجل امرأتان حرتان فعليه أن يعدل بينهما في القسم بكرين كانتا أو ثيبين أو إحداهما بكرا و الأخرى ثيبا " لقوله عليه الصلاة و السلام " من كانت له امرأتان و مال إلى إحداهما في القسم جاء يوم القيامة و شقه مائل "(1/215)-
و فی الفتاوى الهندية : تجب على الرجل نفقة امرأته المسلمة و الذمية و الفقيرة و الغنية دخل بها أو لم يدخل الخ (1/544)-