اگر شوہر بیوی کو بات بات پر مارے، طلاق کی دھمکی دے ، کافی وقت سے تنگ آکر لڑکی والے اسے اپنے گھر لے کر چلے گئے ، ایک سال ہو گیا ہے شوہر کچھ بھی بیوی بچوں کا خرچ نہیں اٹھاتا ، صلح کی دونوں طرف کوشش بھی کی گئی مگر ناکام ہوئی ، وہ لوگ کراچی آکر بات چیت نہیں کرنا چاہتے ، لڑکی کے گھر والے حیدر آباد میں گئے مگر انہیں عذر دے دیا کہ امی کی طبعیت ٹھیک نہیں ، وہ بات نہیں کر سکتی ،شوہر بیوی بچوں کو لے جانے کے لئے تیار نہیں، مگر ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی سے بات نہیں کریں گے ، گھر میں نہیں آئیں گے ،نیچے سے لے جائیں گے (لڑکی کے گھر والوں کو بتائے بغیر لڑکی نیچے آجائے تو بیوی اور بچوں کو لے جائیں گے) تواس صورت میں گناہگار کون ہے ، لڑکی کو کیا کرنا چاہیئے ؟
بلاوجہ بیوی کو مارنا، بات بات پر طلاق کی دھمکیاں دینا بڑی کمینگی ہے ، پھر شوہر کا بیوی بچوں کا خرچ نہ اٹھانا وغیرہ سب ظلم اور ناانصافی ہے ، جس کیوجہ سے شوہر سخت گناہگار ہوا ہے ، اس پر لازم ہے کہ ان تمام باتوں سے توبہ کر کے اپنے گھر کو بسانے کی فکر کرے، اگر لڑکی کے والدین ان باتوں پر اطمینان چاہتے ہوں تو لڑکے کو ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کو اطمینان دلانا چاہیئے ، بلاوجہ کے عذر اور بہانے نہیں بنانے چاہیئے , تاہم اگر نباہ کی صورت نہ بنتی ہو تو دونوں کے علیحدہ ہونے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
كما في التنزيل العزيز: وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا (35)
وفی صحیح البخاری: عن عبد الله بن زمعة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يجلد أحدكم امرأته جلد العبد، ثم يجامعها في آخر اليوم»(7/32)