شادی کے موقع پر نکاح کے بعد لڑکی کو جو سونا دیاجاتاہے، وہ لڑکی کا حق ہے یا سسرال والوں کا؟
شادی کے موقع پر نکاح بعد لڑکی (دلہن) کو جو زیورات اپنے گھر والوں کی طرف سے ملتا ہے وہ تو لڑکی کی ملکیت ہوتے ہیں، اور جو زیور اسے سسرال والوں کی طرف سے ملتا ہے ، تو اگر لڑکے والوں نے وہ سونا دیتے وقت بطورِ ملک دینے کی صراحت کی ہو تو لڑکی اس زیور کی مالک ہوگی اور اگر لڑکے والوں نے زیور دیتے وقت عاریت کے طور پر (یعنی صرف استعمال کے لۓ لڑکی کو زیور) دینے کی صراحت کی ہو تو پھر وہ زیور لڑکی کی ملکیت نہیں ہوگا، بلکہ جس نے عاریتاً استعمال کے لۓ دیا ہو اسی کی ملکیت ہوگا اور اگر لڑکے والوں نے زیور دیتے وقت کسی قسم کی کوئی صراحت نہ کی ہوتو پھر لڑکے والوں کے ہاں رائج عرف کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔
فی رد المحتار: ومن ذلك ما يبعثه إليه قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابا ونحوها صبيحة العرس أيضا۔(696/5، ط: دار الفکر)۔
و فیہ ایضاً (قوله: وكذا زفاف البنت) أي على هذا التفضيل بأن كان من أقرباء الزوج أو المرأة أو قال المهدي.أهديت للزوج أو المرأة كما في التتارخانية. وفي الفتاوى الخيرية سئل فيما يرسله الشخص إلى غيره في الأعراس ونحوها هل يكون حكمه حكم القرض فيلزمه الوفاء به أم لا؟ أجاب: إن كان العرف بأنهم يدفعونه على وجه البدل يلزم الوفاء به ان مثليا فبمثله، وإن قيميا فبقيمته وإن كان العرف خلاف ذلك بأن كانوا يدفعونه على وجه الهبة، ولا ينظرون في ذلك إلى إعطاء البدل فحكمه حكم الهبة في سائر أحكامه فلا رجوع فيه بعد الهلاك أو الاستهلاك، والأصل فيه أن المعروف عرفا كالمشروط شرطا اھ(153/3، ط: دار الفکر)۔