میرے والدین گھر کی نیچے والی منزل میں رہتے ہیں۔ میں اور میری بیوی اوپر والی منزل پر الگ کمرے میں رہتے ہیں جس طرح میرا بھائی اپنی فیملی کے ساتھ الگ کمرے میں رہتا ہے اب میری بیوی کا تقاضا ہے کے میں اسے الگ گھر لے کر دوں۔ کھانا پینا مشترکہ ہے جس سے اخراجات مناسب ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں کہ اس گھر سے دور الگ گھر لے کر دینا ضروری ہے۔
شوہر کہ ذمے اپنی بیوی کے نان ونفقہ اور رہائش کا اس طرح انتظام کرنا شرعالازم اور ضرروی ہے کہ وہ کسی کی محتاج نہ رہے ، اس لیے رہائش میں ایسامستقل کمرہ، باورچی خانہ اور بیت الخلاء کا ہونا ضروری ہے، جس میں کسی دوسرے کا اشتراک اور عمل دخل نہ ہو۔
لہذ ا صورت مسئولہ میں اگرچہ سائل نے اوپر والی منزل میں ایسا مستقل کمرہ بیوی کو دیا ہے، جس میں وہ اپنی ضرورت کی سامان اور اپنی مرضی سے رہن سہن کر سکتی ہوں ، لیکن اس کے ساتھ مستقل کیچن کی کوئی ترتیب نہیں ہے، اس لیے سائل کو چاہیے کہ اس کے لیے مستقل کیچن کی کوئی ترتیب بناکر اشیاء خورد نوش انہیں الگ فراہم کردے، تاکہ شرعی اعتبار سے شوہر پر واجب سکنی(رہائش ) کی ذمہ داری پوری ہوجائے ، اور اس کے بعد بیوی کے لئے الگ مکان کے مطالبہ کی اجازت باقی نہیں رہی گی۔
الدر المختار: (600/3، ط: دار الفکر)
بيت منفرد من دار له غلق زاد في الاختيار والعيني ومرافق ومراده لزوم كنيف ومطبخ وينبغي الإفتاء به.
رد المحتار: (600/3، ط: دار الفکر)
قوله ( وفي البحر عن الخانية ) عبارة الخانية فإن كانت دار فيها بيوت وأعطى لها بيتا يغلق ويفتح لم يكن لهاأن تطلب بيتا آخر إذا لم يكن ثمة أحد من أحماء الزوج يؤذيها ا ه
قال المصنف في شرحه فهم شيخنا أن قوله ثمة إشارة للدار لا البيت لكن في البزازية أبت أن تسكن مع أحماء الزوج وفي الدار بيوت إن فرغ لها بيتا له غلق على حدة وليس فيه أحد منهم لا تمكن من مطالبته ببيت آخر
بدائع الصنائع: (23/4، ط: دار الکتاب الاسلامی)
ولو أراد الزوج أن يسكنها مع ضرتها أو مع أحمائها كأم الزوج وأخته وبنته من غيرها وأقاربه فأبت ذلك؛ عليه أن يسكنها في منزل مفرد؛ لأنهن ربما يؤذينها ويضررن بها في المساكنة وإباؤها دليل الأذى والضرر ولأنه يحتاج إلى أن يجامعها ويعاشرها في أي وقت يتفق ولا يمكنه ذلك إذا كان معهما ثالث حتى لو كان في الدار بيوت ففرغ لها بيتا وجعل لبيتها غلقا على حدة قالوا: إنها ليس لها أن تطالبه ببيت آخر اھ