بیوی اپنے شوہر کی ظلم سے تنگ ہو کر کورٹ میں جا کر طلاق لے لیں تو کیا طلاق ہو جائے گی ؟شوہر دس سال سے بیرون ملک میں رہتے ہیں اور مسلسل بلانے پر بھی وہ نہیں آئے ، اور بلاوجہ بے اعتمادی اور بےعزتی کرتا ہے۔
واضح ہو کہ طلاق دینے کا اختیار اللہ تعالیٰ نے مرد کو دیا ہے نہ کہ عورت کو ،لہذا صورت مسؤلہ میں بیوی کے طلاق دینے سے شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،بلکہ حسب سابق ان کا نکاح برقرار ہے ،جبکہ خاوند کا اتنا عرصہ اپنی بیوی سے دور رہنا اور اس کے حقوق کی ادائیگی نہ کرنا شرعاً درست نہیں ،جس سے بہر صورت اجتناب لازم ہے ،لہذا اسے چاہیے کہ اپنی بیوی کی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے کچھ عرصہ کیلئے گھر آجایا کرے ،یا مستقل طور پر بیوی کو اپنے پاس بلا لے ،تاکہ بیوی کے حقوق کی ادائیگی بھی ہو اور اس کا گھر بھی آبا د رہے ،تاہم اگر خاوند اس کے باوجود بھی گھر آنے یا بیوی کو اپنے پاس بلانے پر آمادہ نہ ہو اور نہ ہی بیوی کیلئے نان نفقہ بھیجتا ہو ، تو ایسی صورت میں بیوی اپنے شوہر سے طلاق لے سکتی ہے ، اور اس صورت میں عورت گناہ گار بھی نہ ہوگی،اور اگر خاوند نہ تو نان نفقہ بھیجنے کیلئے تیار ہو اور نہ ہی طلاق دینے کیلئے تیار ہو ، تو ایسی صورت میں عورت عدالت میں "نان نفقہ نہ دینے" کو بنیاد بنا کر خلع کے بجائے "فسخ نکاح" کی درخواست دائر کرے اور عدالت قانونی کاروائی کے بعد فسخ نکاح کی ڈگری جاری کرے خلع کی ڈگری جاری نہ کرے ،چنانچہ عدالت سے فسخ نکاح کی ڈگری ملنے کے بعد عورت عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
کما فی سنن ابن ماجة : عن ابن عباس، قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل، فقال: يا رسول الله، إن سيدي زوجني أمته، وهو يريد أن يفرق بيني وبينها، قال: فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر، فقال: يا أيها الناس، ما بال أحدكم يزوج عبده أمته، ثم يريد أن يفرق بينهما، إنما الطلاق لمن أخذ بالساق
وفی ھامشه: (إنما الطلاق لمن أخذ بالساق) أي الطلاق حق الزوج الذي له أن يأخذ بساق المرأة اھ(151)
وفی الشامیة: المراءۃ لاتملک الطلاق بل ھو ملکه اھ(441/3)
و فی الحیلة الناجزۃ: و أما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير ما نصه إن منعھا نفقة الحال فلھا القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق و إلا طلق عليه، قال محشيه أي طلق عليه الحاكم من غیر تلوم اھ ( 133 )۔والله اعلم