کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ شوہر بیوی سے کہتا ہو کہ میری ہر بات بلا رائے اور عذر بیان کیے ماننا تم پر واجب ہے، مثلا دس منٹ پہلے کہا کہ بچوں کو لے کر فلاں جگہ چلی جاؤ ،بیوی نے کہا میرے لیے بچوں کے ساتھ جانا ممکن نہیں، کوئی اور حل/مشورہ کر لیتے ہیں، تو ناراض ہونا اور نافرمان کہنا، شوہر کہتا ہے میں کہوں تو اٹھ جاؤ میں کہوں تو بیٹھ جاؤ، بیوی کا کوئی عذر نافرمانی ہے، اور پھر ایسی باتوں پر نازیبا الفاظ سے ڈانٹنا یا بنا بات کئے بات چیت بند کر دینا جس سے بیوی کا ذہن متاثر ہوتا ہے اور وہ ڈپریشن کا شکار ہوتی ہے۔نیز ایسے معاملات میں بیوی کی کیا ذمہ داری ہے؟
واضح ہو کہ شریعتِ مطہرہ نے میاں بیوی میں سے ہر ایک کے لئے دوسرے پر حسنِ معاشرت کے اعتبار سےبہت سے حقوق عائد کئے ہیں،اور جس طرح بیوی ان حقوق کی ادائیگی کی پابند ہے ایسا ہی شوہر پر بھی اپنی بیوی کے ساتھ حسنِ معاشرت اختیار کرنا لازم ہے،لہٰذا سائلہ کے شوہر کو بیوی کے آرام و راحت، مزاج و طبیعت کی رعایت رکھے بغیر اسے ہر حکم کا پابند بنانا اور سائلہ کی طرف سے عذر و معذرت کی صورت میں ناراض ہوکر بات چیت بند کر دینا،قطعاً مناسب نہیں، بلکہ اپنی ازدواجی زندگی متاثر کرنے کا سبب اور ذریعہ ہے، اس لئے سائلہ کے شوہر کو چاہیئے کہ مذکور طرزِ عمل سے باز آ کر حسنِ سلوک اور خوش اسلوبی کیساتھ زندگی بسر کرنے کی کوشش کرے، جبکہ سائلہ کو بھی چاہیئے کہ شوہر کے مقام کی رعایت رکھتے ہوئے جائز اور قابلِ عمل امور میں شوہر کی اطاعت کو اپنا فریضہ سمجھے، چنانچہ اگر ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت رکھی جائے تو امید ہیکہ شکوے شکایت اور تلخیاں ختم ہوجائیں گی۔
کمافی تفسير الطبري: القول في تأويل قوله: ﴿وعاشروهن بالمعروف﴾. يعنى جل ثناؤه بقوله: ﴿وعاشروهن بالمعروف﴾ وخالقوا أيها الرجال نساءكم، وصاحبوهن بالمعروف. يعنى: بما أمرتكم به من المصاحبة، وذلك إمساكهن بأداء حقوقهن التي فرض الله جل ثناؤه لهن عليكم إليهن، أو تسريح منكم لهن بإحسان۔ اھ (6/537)
وفی مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أكمل المؤمنين إيمانا أحسنهم خلقا وخياركم خياركم لنسائهم» .رواه الترمذي وقال: هذا حديث حسن صحيح۔(2/973)
وفی المعجم الأوسط للطبراني: عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إذا صلت المرأة خمسها، وصامت شهرها، وحصنت فرجها، وأطاعت بعلها، دخلت من أي أبواب الجنة شاءت»(5/34)
وفی السنن الكبرى النسائي: عن عائشة قالت: سألت النبي صلى الله عليه وسلم أي الناس أعظم حقا على المرأة؟ قال: «زوجها» قلت: فأي الناس أعظم حقا على الرجل؟ قال: «أمه»(8/254)