مفتی صاحب! میں ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ میری والدہ 56 سال کی ہے، جبکہ وہ بیوہ ہے، اب ہم چاہتے ہیں کہ اپنی والدہ کے لئے بہبود سیونگ سرٹیفکیٹ بنائیں ، جس کی وجہ سے وہ ماہانہ آمدنی کمائے گی، کیونکہ مذکور سرٹیفکیٹ ان بیواؤں کی ضرورت کے لئے تیار کیا گیا ہے، جن کی عمر 65 سال سے زائد ہو، یا وہ معذور ہوں اس بہبود سرٹیفکیٹ کی بچت کی موجودہ شرح 18 فیصد کے لگ بھگ ہے، جس میں اضافہ ہوسکتا ہے، کیونکہ یہاں کچھ علماء نے اسے حلال قرار دیا ہے، لہذا میں اس کے حلال یا حرام ہونے میں اپنی الجھن کو دور کرنا چاہتا ہوں، براہِ کرم اس مسئلہ میں میری راہنمائی فرمائیں؟
ہماری معلومات کے مطابق قومی بچت سکیم " بہبود سرٹیفکیٹ" سودی بنیادوں پر کام کرتی ہے، اس لئے سائل کا اپنی والدہ کے لئے مذکور سرٹیفکیٹ اور اس پر ادارے کی طرف سے پرافٹ کے نام پر ملنے والی سودی رقم لینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، جس سے احتراز کرنا لازم ہے، البتہ اگر سائل اس رقم کو میزان بینک کے " المیزان انویسٹمنٹ فنڈز" یا دیگر کسی شرعیہ کمپلائنٹ فنڈز میں انویسٹ کردے ، تو اس کی شرعاً بھی گنجائش ہے۔
کما فی فقہ البیوع: ولھما انہ حصل بسبب خبیث، و ھو التصرف فی ملک الغیر والفرع یحصل علی صفۃ الاصل، والملک الخبیث سبیلہ التصدق بہ ولو صرفہ فی حاجۃ نفسہ جاز، ثم ان کان غنیا تصدق بمثلہ، وان کان فقیراً لایتصدق، ولکنہ مقید بما اذا لم یکن عندہ مال اخر لدفع حاجتہ، قال صاحب الھدیۃ" الا اذا کان لایجد غیرہ، لانہ محتاج الیہ، ولہ ان یصرفہ الی حاجۃ نفسہ، فلو اصابہ مالاً ، تصدق بمثلہ ان کان غنیا وقت الاستعمال، وان کان فقیرا فلا شئ علیہ الخ (2/1011)۔
وفی الدر المختار: و فی الاشباہ کل قرض جر نفعاً فھو حرام فکرہ للمرتھن سکنی المرھونۃ باذن الراھن الخ ( 5/ 166)۔