زید کا ایک ہی بیٹا ہے اور وہ جوا کا کام کرتا ہے، اب زید خود بزرگ ہے اور خود کمائی نہیں کر سکتا، اب زید اُسی بیٹے سے کھاتا پیتا ہے، کیا زید مسجد میں اذان پڑھ سکتا ہے؟
زید کا اگر چہ مسجد میں اذان دینا جائز ہے، تا ہم زید کو چاہیے کہ وہ اپنے بیٹے کو حتی الامکان حرام کمائی سے بچانے کی کو شش کرتار ہے، اور اگر کسی اور ذریعہ آمدن کا انتظام ہو جائے تو بیٹے کی کمائی کو ترک کر دے۔
كما في التنزيل العزيز: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (المائدة: 90)
وفي البناية شرح الهداية: [شروط المؤذن] وأما الذي يرجع إلى المؤذن، فهو أن يكون ذكرا بالغا عاقلا صحيحا تقيا عالما بالسنة، ومواقيت الصلاة جهرا بصوت مواظبا على الأذان في الصلوات الخمس ولا يستأجر عليها، ولو فعل لا يستحق الأجرة لقوله - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - لعثمان بن أبي العاص، «وإن اتخذ مؤذنا لا يأخذ على أذانه أجرا» رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وبه قال الأوزاعي وأحمد وابن المنذر. ورخص فيه مالك وبعض الشافعية ولو علموا حاجته فلا بأس بأن يعينوه من غير شرط اھ (2/ 97)
وفي البحر الرائق: وسنن في صفات المؤذن، أما الأول فسيأتي، وأما الثاني فأن يكون رجلا عاقلا ثقة عالما بالسنة وأوقات الصلاة فأذان الصبي العاقل ليس بمستحب ولا مكروه في ظاهر الرواية فلا يعاد اھ (1/ 268)